انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 417

انوار العلوم جلد ۳۰ ۴۱۷ متفرق امور گوشاگرد علم کے لحاظ سے استاد کے برابر بھی ہو جائے تاہم استاد کے سامنے زانوئے ادب خم کر کے ہی بیٹھے گا۔ یہی نسبت آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود میں ہے۔ ہم اگر آپ کو آنحضرت اللہ کا کامل ظل اور برو زمانتے ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی یقین اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ کا تعلق رسول کریم اسے خادم اور غلام کا ہے۔ ہاں یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کچھ رسول کریم ال کے ذریعہ ہوا تھا وہی مسیح موعود نے ہمیں دکھلا و کھلا دیا دیا ۔ ۔ اس اس لحاظ سے برابر بھی کہا جا سکتا ہے مگر یہ نہیں کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک شان اور ایک درجہ ہے۔ بلکہ شاگرد اور استاد آقا اور غلام کی نسبت ہے۔ البتہ حضرت مسیح موعود آپ کی کامل اتباع اور پوری پیروی سے ایسے صاف ہوئے کہ آنحضرت ا کے تمام کمالات اپنے اندر اخذ کر لئے۔ کوئی کہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ا کے تمام کمالات اپنے اندر نقل کرلئے ہیں تو پھر آپ کے درجہ اور شان کی کیا خصوصیت رہی۔ مگر ایسا کہنے والے کو یاد رکھنا چاہئے کہ نقل کرنا بھی خاص شان اور درجہ رکھتا ہے۔ ایک قصہ مشہور ہے کہ چین کے مصور مانی اور بہزاد کے لئے کسی نے انعام مقرر کیا تھا کہ جو تم میں سے اعلیٰ تصویر بنائے گا اسے دیا جائے گا۔ اس کے لئے ایک دیوار بنا کر ایک طرف ایک کو اور دوسری طرف دوسرے کو بٹھا دیا گیا۔ ایک تو تصویر بنانے میں مشغول ہو گیا اور دوسرا یونہی بیٹھا رہا۔ انعام مقرر کرنے والا شخص روز آکر دیکھتا اور اسے کہتا کہ تم کب بناؤ گے دوسرا تو بنا رہا ہے۔ وہ کہہ دیتا کہ آپ وقت مقررہ پر تصویر دیکھ لینا میں جب چاہوں گا بنالوں گا۔ وقت مقررہ پر جب دیکھا گیا تو جس طرح کی تصویر ایک نے بنائی تھی ہو بہو اسی طرح کی دوسرے نے بھی بنائی۔ اور انعام دینے والے کے لئے مشکل پڑ گئی کہ کس کو انعام دے کیونکہ دونوں کی تصویر میں ایک ہی طرح کی تھیں۔ اس کام نہ کرنے والے نے کس طرح ہو بہو اسی طرح کی تصویر بنالی۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے چھیلتے پھیلتے دیوار کو اس قدر پتلا کر لیا تھا کہ دوسرے کی تصویر کا عکس اس پر پڑنے لگا اور اس سے اس نے تصویر بنالی۔ یہ ایک مثال ہے۔ لیکن کیا اس سے عکس کو دیکھ کر تصویر بنانے والے کی قابلیت کا پتہ نہیں لگتا۔ پس اس لحاظ سے کہ حضرت مسیح موعود آنحضرت ا کے کامل مظہر تھے۔ آپ کو عین محمد " لکھا گیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے آنحضرت ا سے الگ ہو کر