انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 342

انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۴۲ سیرت مسیح موعود سے آ۔ دنوں مقدمات میں کرنے پڑتے آپ ایک وقت کی نماز بھی بے وقت نہ ہونے دیتے ہونے دیتے بلکہ اپنے اوقات پر نماز ادا کرتے بلکہ مقدمات کے وقت بھی نماز کو ضائع نہ ہونے دیتے ۔ چنانچہ ایک دفعہ تو ایسا ہوا۔ کہ آپ ایک ضروری مقدمہ کے لئے جس کا اثر بہت سے مقدمات پر پڑتا تھا۔ اور جس کے آپ کے حق میں ہو جانے کی صورت میں آپ کے بہت سے حقوق محفوظ ہو جاتے تھے ۔ عدالت میں تشریف لے گئے اس وقت کوئی ضروری مقدمہ پیش تھا اس میں دیر ہوئی اور نماز کا وقت آگیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مجسٹریٹ تو اس مقدمہ میں مصروف ہے اور نماز کا وقت تنگ ہو رہا ہے تو آپ نے اس مقدمہ کو خدا کے حوالے کیا۔ اور خود ایک طرف جا کر وضوء کیا اور درختوں کے سایہ تلے نماز پڑھنی شروع کر دی۔ جب نماز شروع کر دی تو عدالت آپ کے نام پر آواز پڑی آپ آرام سے نماز پڑھتے رہے اور بالکل اس طرف توجہ نہ کی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو یقین تھا کہ مقدمہ میں فریق مخالف کو یکطرفہ ڈگری مل گئی ہو گی کیونکہ عدالت ہائے کا قاعدہ ہے کہ جب ایک فریق حاضر عدالت نہ ہو تو فریق مخالف کو یکطرفہ ڈگری دی جاتی ہے۔ اسی خیال میں عدالت میں پہنچے ۔ چنانچہ جب عدالت میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ مقدمہ کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔ لیکن چونکہ فیصلہ عدالت معلوم کرنا ضروری تھا جا کر دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مجسٹریٹ نے جو ایک انگریز تھا کا غذات پر ہی فیصلہ کر دیا اور ڈگری آپ کے حق میں دی ۔ اور اس طرح خدا تعالیٰ نے آپ کی طرف سے وکالت کی۔ غرض آپ ان دنیاوی کاموں میں اس طرح مشغول تھے جس طرح ایک شخص سے کوئی ایسا کام کرایا جائے جس کے کرنے پر وہ راضی نہ ہو حالانکہ وہ کام خود آپ کے نفع کا تھا کیونکہ آپ کے والد صاحب کی جائداد کا محفوظ ہونا در حقیقت آپ کی جائداد کا محفوظ ہونا تھا کیونکہ آپ ان کے وارث تھے۔ پس آپ کا باوجود عاقل و بالغ ہونے کے اس کام سے بیزار رہنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ دنیا سے بکلی متنفر تھے اور خدا تعالیٰ ہی آپ کا مقصود تھا۔ محنت اور جفاکشی کی عادت باوجود اس کے کہ آپ دنیا ہے ایسے تنفر تھے آپ کست ہرگز نہ تھے بلکہ نہایت محنت کش تھے اور خلوت کے دلدادہ ہونے کے باوجود مشقت سے نہ گھبراتے تھے۔ اور بارہا ایسا ہو ہوتا تھا کہ آ۔ آپ کو جب کسی سفر پر جانا پڑتا تو سواری کا گھوڑا نوکر کے ہاتھ آگے روانہ کر دیتے اور آپ پیادہ پائیں پچیس کوس کا سفر طے کر کے منزل مقصود پر پہنچ جاتے بلکہ اکثر اوقات آپ پیادہ ہی سفر کرتے تھے اور سواری پر کم