انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 341

انوار العلوم جلد - ۳ ۳۴۱ سیرت مسیح موعود جاتے وجہ سے ہے۔ چنانچہ آپ فرمایا کرتے تے تھے کہ بعض دفعہ آپ کے والد نہایت افسردہ ہو ۔ تھے اور کہتے تھے کہ میرے بعد اس لڑکے کا کس طرح گزارہ ہو گا۔ اور اس بات پر ان کو سخت رنج تھا کہ یہ اپنے بھائی کا دست نگر رہے گا۔ اور کبھی کبھی وہ آپ کے مطالعہ پر چڑ کر آپ کو ملاں بھی کہہ دیا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ یہ ہمارے گھر میں ملاں کہاں سے پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن باوجود اس کے خود ان کے دل میں بھی آپ کا رعب تھا اور جب کبھی وہ اپنی دنیاوی نا کامیابی کو یاد کرتے تھے تو دینی باتوں میں آپ کے استغراق کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ اور اس وقت فرماتے تھے کہ اصل کام تو یہی ہے جس میں میرا بیٹا لگا ہوا ہے۔ لیکن چونکہ ان کی ساری عمر دنیا کے کاموں میں گذری تھی اس لئے افسوس کا پہلو غالب رہتا تھا۔ مگر حضرت مرزا صاحب اس بات کی بالکل پرواہ نہ کرتے تھے بلکہ کسی وقت قرآن و حدیث اپنے والد صاحب کو بھی سنانے کے لئے بیٹھ جاتے تھے۔ اور یہ ایک عجیب نظارہ تھا کہ باپ اور بیٹا دو مختلف کاموں میں لگے ہوئے تھے اور دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو شکار کرنا چاہتا تھا۔ باپ چاہتا تھا کہ کسی طرح بیٹے کو اپنے خیالات کا شکار کرے اور دنیاوی عزت کے حصول میں لگاوے اور بیٹا چاہتا تھا کہ اپنے باپ کو دنیا کے خطرناک پھندہ سے آزاد کر کے اللہ تعالیٰ کی محبت کی کو لگا دے۔ غرض یہ عجیب دن تھے جن کا نظارہ کھینچنا قلم کا کام نہیں۔ ہر ایک شخص اپنی اپنی طاقت کے مطابق اپنے دل کے اندر ہی اس کا نقشہ کھینچ سکتا ہے۔ انا ہے۔ ان دنوں آپ کے سامنے پھر ملازمت کا سوال پیش ریاست کپور تھلہ کے محکمہ تعلیم کا افسر بنانے کی تجویز ہوئی لیکن آپ نے نامنظور کر دیا۔ اور اپنے والد صاحب کے ہموم و عموم کو دیکھ کر اس بات کو ہی پسند فرمایا کہ جس تنگی سے بھی گزارہ ہو گھر پر ہی رہیں اور ان کے کاموں میں جہاں تک ہو سکے ہاتھ بٹائیں ۔ گو جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے آپ کا دل اس کا آپ کا دل اس کام کی طرف بھی راغب نہ تھا لیکن آپ اپنے والد صاحب کے حکم کے ماتحت اور ان کے آخری ایام کو جہاں تک ہو سکے بآرام کرنے کے لئے اس کام میں لگے ضرور رہتے تھے۔ گوفتح و شکست سے آپ کو دلچسپی نہ تھی۔ ہوا۔ اور ریا۔ صاحب کی حضرت مسیح موعود کو اس زمانہ میں اپنے والد صاح ایک مقدمہ میں نشان الہی مدد کے لئے ان کے دنیاوی کاموں میں لگے ہوئے تھے لیکن آپ کا دل کسی اور طرف تھا اور دست در کار دل بایار کی مثال بنے ہوئے ہوئے تھے۔ مقدمات سے ذرا فارغ ہوتے تو خدا تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہو جاتے ۔ اور ان سفروں میں جو آپ کو ان