انوارالعلوم (جلد 3) — Page 95
انوار العلوم جلد ۳۰ ۹۵ انوار خلافت م اتناہی آتا کہ میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں تو ہوں تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ یہ آپ ۔ آپ کے نام ہیں صفات نہیں ہیں۔ لیکن جب انہی کے ساتھ ماحی ، حاشر اور عاقب بھی آگیا۔ تو معلوم ہوا کہ یہ سب آپ کی صفات ہیں نام نہیں۔ اس لئے غیر مبالغین کا یہ استدلال بھی غلط ہو گیا کہ آنحضرت کا احمد نام اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ ورنہ اگر صرف محمد نام پر نعوذ باللہ آپ نے فخر کیا تھا تو اس نام کے تو اور بہت سے انسان دنیا میں موجود ہیں۔ کیا وہ سب اپنے ناموں پر فخر کر سکتے ہیں اور کیا ان کا یہ فخر بجا ہو گا۔ اگر نہیں تو کیوں اس حدیث کے ایسے معنی کئے جاتے ہیں جن میں رسول کریم ال کی ہتک ہوتی ہے اور نعوذ باللہ آپ پر الزام آتا ہے کہ آپ اپنے ناموں پر فخر کیا کرتے تھے یہ حرکت تو ایک معمولی انسان بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ خدا کا نبی اور پھر تمام نبیوں کا سردار ایسی بات کرے ۔ ہمارے مخالف ذرا اتنا تو سوچیں کہ وہ ہماری مخالفت میں رسول کریم اللہ پر بھی حملہ کرنے لگ گئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں کہ منم محمد و احمد که مجتبی باشد - کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بھی یہ سب نام تھے ۔ احمد نام گو اختلافی ہے لیکن محمد " تو آپ کا نام ہرگز نہ آپ کا نام ہرگز نہ تھا۔ پھر کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھ میں صفت محمدیت ہے اور یہی بات قابل فخر ہو بھی سکتی ہے۔ صرف نام محمد " آپ کے لئے باعث فخر کیونکر ہو سکتا تھا اور حضرت مسیح موعود کا نام محمد تو تھا بھی نہیں کہ یہاں وہ دھو کا لگ سکے ۔ ہمارے مخالف یہ روایت بھی پیش کیا کرتے ہیں کہ آنحضرت ا کی والدہ محترمہ کو آپ کا نام احمد بتایا گیا تھا۔ لیکن یہ حدیث جھوٹی ہے کیونکہ اس کا راوی وہ شخص ہے جس نے کئی ہزار جھوٹی حدیثیں بنائی ہیں۔ اور جس نے خود اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میں نے جھوٹی حدیثیں بنائی ہیں۔ پھر جبکہ صحیح روایات میں یہ آتا ہے کہ آپ کی والدہ کو آپ کا نام محمد بتایا گیا تھا۔ چنانچہ ابن ہشام کے صفحہ ۶۲ پر لکھا ہے کہ آپ کی والدہ فرماتی ہیں مجھے خواب میں بتایا گیا کہ جب یہ بچہ پیدا ہو گا تو سَمِيْهِ مُحَمَّدًا - ابن ہشام جلد اصفحه ۶۲ ناشر دار ریحانی بیرون) اس کا نام محمد رکھنا۔ اسی طرح دیکھو مواہب اللہ نیہ ۔ پھر ایک ایسے جھوٹے کی حدیث پر ہم کیونکر اعتبار کر سکتے ہیں۔ یہ حدیث ایسے ہی لوگوں میں سے کسی نے بنائی ہے جنہوں نے اپنی عقل سے بلاسند قرآن مجید اور قول نبی کریم کے پہلے اسمه احمد کو آنحضرت ا پر چسپاں کیا اور پھر ان کو مشکل پیش آئی کہ اس کی سند کیا ہے۔ پس انہوں نے ایک روایت گھڑی در نہ کیا وجہ ہے کہ ایسی بڑی بات کا ذکر صحیح احادیث میں نہیں۔ کیوں اس حدیث کے راوی واقدی اور اس و