انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 66

انوار العلوم جلد ۲ ५५ منصب خلافت کا اعزاز فرماتے تھے اور وہ اپنے علم و فضل اور سلسلہ کی خدمات کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ ہم ان کی عزت کریں وہ اس جلسہ شورٹی کے پریذیڈنٹ ہوں میں اس جلسہ میں نہ ہوں گا تا کہ ہر شخص آزادی سے بات کر سکے جو بات باہمی مشورہ اور بحث کے بعد طے ہو وہ لکھ لی جائے اور پھر مجھے اطلاع دو۔ دعاؤں ۔ کے بعد خدا تعالیٰ جو میرے دل میں ڈالے گا اس پر عمل درآمد ہو گا ۔ تم کسی معاملہ پر غور کرتے وقت اور رائے دیتے وقت یہ ہرگز خیال نہ کرو کہ تمہاری بات ضرور مانی جائے بلکہ تم خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے سچے دل سے ایک مشورہ دے دو اگر وہ غلط بھی ہو گا تو بھی تمہیں ثواب ہوگا ۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی بات ضرور مانی جائے تو پھر اس کو کوئی ثواب نہیں۔ میری ان تجاویز کے علاوہ نواب صاحب کی تجاویز پر غور کیا جائے شیخ یعقوب علی صاحب نے بھی کچھ تجاویز لکھی ہیں ۔ ان میں سے تین کے پیش کرنے کی میں نے اجازت دی ہے ان پر بھی فکر کی جائے ۔ پھر میں کہتا ہوں کہ مولوی صاحب کا جو درجہ ان کے علم اور رتبہ کے لحاظ سے ہے وہ تم جانتے ہو حضرت صاحب حب بھی ان کا ادب کرتے تھے پس ہر شخص جو بولنا چاہے وہ مولوی صاحب سے اجازت لے کر بولے ۔ ایک بول چکے تو پھر دوسرا پھر تیسرا بولے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک وقت میں دو تین کھڑے ہو جائیں جس کو وہ حکم دیں وہ بولے ۔ نواب صاحب یا منشی فرزند علی صاحب اس مجلس کے سیکرٹری کے کام کو اپنے ذمہ لیں وہ لکھتے جائیں اور جو گفتگو کسی امر پر ہو اُس کا آخری نتیجہ سنا دیا جائے ۔ اگر کسی امر پر دو تجویزیں ہوں تو دونوں کو لکھ لیا جائے ۔ اب آپ سب دعا کریں۔ میں بھی دعا کرتا ہوں کیونکہ پھر دوستوں نے کھانا کھانا ہے قادیان کے دوست ساتھ مل کر کھانا کھلائیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہو پانی کا انتظام اچھی طرح سے ہو ۔ خود بھی دعا کریں ۔ مہمان بھی کریں ۔ سفر کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اس مشورہ اور دعا کے ساتھ جو کام ہو گا خدا کی طرف سے ہوگا۔ وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ