انوارالعلوم (جلد 2) — Page 65
انوار العلوم جلد ۲ ۶۵ منصب خلافت صلى الله سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت صدرانجمن احمد یہ کو روپیہ میری معرفت ملے گا ہمیں جو کچھ ملتا ہے آنحضرت ا اللہ کے طفیل ہی ملتا ہے ۔ پس جو روپیہ آتا ہے وہ محمد علی ہی بھیجتے ہیں ۔ حضرت صاحب کو دینے سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ اشاعتِ سلسلہ میں خرچ کیا جائے ۔ قرآن شریف کی ایسی آیات کے صحابہ نے یہی معنی کئے ہیں ۔ یہ ایک کچی خواب ہے ورنہ کیا چھ سال پہلے میں نے ان واقعات کو اپنی طرف سے بنا لیا تھا اور خدا تعالیٰ نے اسے پورا بھی کر دیا ۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ - پس ہر قسم کے چندے ان لوگوں کو جو میرے مبائعین ہیں میرے پاس بھیجنے چاہئیں۔ سوم ۔ جب تک ا جب تک انجمن کا قطعی طور پر فیصلہ نہ ہوا شاعت اسلام اور زکوۃ کا روپیہ میرے ہی ۔ پاس آنا چاہئے ۔ جو واعظین کے اخراجات اور بعض دوسری وقتی ضرورتوں کے لئے خرچ ہوگا ۔ جو اشاعت اسلام سے تعلق رکھتی ہیں یا مصارف زکوۃ سے متعلق ہیں ۔ چهارم - مجلس شوری کی ایسی حالت ہو کہ ساری جماعت کا اس میں مشورہ ہو۔ آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں ایسا ہی ہوتا تھا کیا وجہ ہے کہ روپیہ تو قوم سے لیا جائے اور اس کے خرچ کرنے کے متعلق قوم سے پوچھا بھی نہ جائے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ بعض معاملات میں تخصیص ہو۔ وَإِلَّا ساری جماعت سے مشورہ ہونا چاہئے ۔ سوچنا یہ ہے کہ اس مشورہ کی کیا تدبر ہو۔ پنجم ۔ فی الحال اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ انجمن میں دو نمبر زائد ہوں کیونکہ بعض اوقات ایسی دقتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ ان کا تصفیہ نہیں ہوتا ۔ اور اب اختلاف کی وجہ سے ایسی دقتوں کا پیدا ہونا اور بھی قرین قیاس ہے علاوہ ازیں مجھے بھی جانا پڑتا ہے اور وہاں دشتیں پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے دو بلکہ تین ممبر اور ہونے چاہئیں اور یہ دو نمبر عالم ہونے چاہئیں ۔ ششم ۔ جہاں کہیں فتنہ ہو ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ وہاں جا کر دوسروں کو سمجھائیں اور اس کو دور کریں۔ اس کے لئے اپنی عقلوں اور علموں پر بھروسہ نہ کریں بلکہ خدا تعالیٰ کی توفیق اور فضل کو مقدم کریں اور اس کے لئے کثرت سے دعائیں کریں اپنے اپنے علاقوں میں پھر کر کوشش کرو اور حالات ضروریہ کی مجھے اطلاع دیتے رہو۔ یہ وہ امور ہیں جن پر آپ لوگوں کو غور کرنا چاہئے ۔ ان میں فیصلہ اس طرح پر ہو کہ مولوی سید محمد احسن صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ المسیح بھی آپ