انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 57

انوار العلوم جلد ۲ ۵۷ منصب خلافت ہے کہ خدا انہیں بناتا ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دیتا ہے اور وہ خدا ہی کی عبادت کرتے ہیں اور شرک نہیں کرتے ۔ اگر نبی کو ایک شخص بھی نہ مانے تو اس کی نبوت میں فرق نہیں آتا وہ نبی ہی رہتا ہے یہی حال خلیفہ کا ہے اگر اس کو سب چھوڑ دیں پھر بھی وہ خلیفہ ہی ہوتا ہے کیونکہ جو حکم اصل کا ہے وہی فرع کا ہے خوب یا د رکھو کہ اگر کوئی شخص محض حکومت کے لئے خلیفہ بنا ہے تو جھوٹا ہے اور اگر اصلاح کے لئے خدا کی طرف سے کام کرتا ہے تو وہ خدا کا محبوب ہے خواہ ساری دنیا اس کی دشمن ہو ۔ اس آیت مشورہ میں کیا لطیف حکم ہے۔ اس مشورہ کا کیا فائدہ جس پر عمل نہیں کرنا بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر مشورہ لے کر اس پر عمل کرنا ضروری نہیں تو اس مشورہ کا کیا فائدہ ہے وہ تو ایک لغو کام بن جاتا ہے اور انبیاء اور اولیاء کی شان کے خلاف ہے کہ کوئی لغو کام کریں اس کا جواب یہ ہے کہ مشورہ لغو نہیں بلکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک بات سوچتا ہے دوسرے کو اس سے بہتر سوجھ جاتی ہے پس مشورہ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مختلف لوگوں کے خیالات سن کر بہتر رائے قائم کرنے کا انسان کو موقع ملتا ہے جب ایک آدمی چند آدمیوں سے رائے پوچھتا ہے تو بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایسی تدبیر بتا دیتا ہے جو اسے نہیں معلوم تھی ۔ جیسا کہ عام طور پر لوگ اپنے دوستوں سے مشورہ کرتے ہیں کیا پھر اسے ضرور مان بھی لیا کرتے ہیں پھر اگر مانتے نہیں تو کیوں پوچھتے ہیں؟ اس لئے کہ شاید کوئی بہتر بات معلوم ہوئیں مشورہ سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ اس پر ضرور کار بند ہوں بلکہ یہ غرض ہوتی ہے کہ ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں کے خیالات سن کر کوئی اور مفید بات معلوم ہو سکے اور یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ میں مشورہ لینے والا مخاطب ہے اگر فیصلہ مجلس شوری کا ہوتا تو یوں حکم ہوتا کہ فَإِذَا عَزَمُتُمْ فَتَوَكَّلُوا عَلَى اللهِ اگر تم سب لوگ ایک بات پر قائم ہو جاؤ تو اللہ پر توکل کر کے کام شروع کر دو ۔ مگر یہاں صرف اس مشورہ کرنے والے کو کہا کہ تو جس بات پر قائم ہو جائے اسے تَوَكُلاً عَلَى اللهِ شروع کر دے۔ دوسرے یہاں کسی کثرت رائے کا ذکر ہی نہیں بلکہ یہ کہا ہے کہ لوگوں سے مشورہ لے یہ نہیں کہا کہ ان کی کثرت دیکھ اور جس پر کثرت ہو اس کی مان لے یہ تو لوگ اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں قرآن کریم میں کہیں نہیں کہ پھر ووٹ لئے اور جس طرف کثرت ہو اُس رائے کے مطابق عمل کرے بلکہ یوں فرمایا ہے کہ لوگوں سے جائیں