انوارالعلوم (جلد 2) — Page 56
انوار العلوم جلد ۲ ۵۶ منصب خلافت لیکن اگر مسیح موعود علیہ السلام خدا کی طرف سے تھے اور ضرور تھے پھر یاد رکھو کہ یہ جماعت ضلالت پر اکٹھی نہیں ہو۔ کٹھی نہیں ہو سکتی ۔ قرآن شریف کو کوئی مسیح نہیں توڑ سکتا۔ میرا یقین ہے کہ کوئی ایسا مسیح نہیں آ سکتا جو آئے گا قرآن کا خادم ہو کر آئے گا اس پر حاکم ہو کر نہیں یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عقیدہ تھا یہی شرح ہے آپ کے اس قول کی ”وہ ہے میں چیز کیا ہوں"۔ یہ تو دشمن پر محبت ہے مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کی حقانیت ثابت کرنے کو آیا تھا۔ اسے نَعُوذُ بِاللهِ باطل کرتے نہیں آیا تھا اس نے اپنے کام سے دکھا دیا کہ وہ قرآن مجید کا غلبہ ثابت کرنے کیلئے آیا تھا۔ قرآن مجید میں فرمایا ہے فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا انْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ (آل عمران : ۱۶۰) پھر کہتے ہیں کہ خلیفہ کا طریق حکومت کیا ہو؟ طریق حکومت کیا ہونا چاہئے؟ خداتعالی نے اس کافیصلہ کر دیا ہے تمہیں ضرورت نہیں کہ تم خلیفہ کے لئے قواعد اور شرائط تجویز کر دیا اس کے فرائض بتاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں اس کے اغراض و مقاصد بتائے ہیں قرآن مجید میں اس کے کام کرنے کا طریق بھی بتا دیا ہے وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّہ ایک مجلس شورای قائم کروان سے مشورہ لے کر غور کرو۔ پھر دعا کرو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں قائم کر دے اس پر قائم ہو جاؤ۔ خواہ وہ اس مجلس کے مشورہ کے خلاف بھی ہو تو خدا تعالی مدد کرے گا ۔ خدا تعالیٰ تو کہتا ہے جب عزم کر لو تو اللہ پر تو کل کرو۔ گویا ڈرو نہیں ۔ اللہ تعالیٰ خود تمہاری تائید اور نصرت کرے گا اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواہ خلیفہ کا منشاء کچھ ہو اور خدا تعالیٰ اسے کسی بات پر قائم کرے مگر وہ چند آدمیوں کی رائے ۔ خلاف نہ کرے۔ حضرت صاحب نے جو مصلح موعود کے متعلق فرمایا ہے وہ ہو گا ایک دن محبوب میرا اس کا بھی یہی مطلب ہے کیونکہ خدا تعالیٰ متوکلین کو محبوب رکھتا ہے جو ڈرتا ہے وہ خلیفہ نہیں - کے ہو سکتا ہے تو گویا حکومت کی خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو میں کسی آدمی کے خلاف کروں تو وہ ناراض ہو جائے ایسا شخص تو مشرک ہوتا ہے اور یہ ایک لعنت ہے۔ خلیفے خدا مقرر کرتا ہے اور آپ ان کے - خونوں کو دور کرتا ہے جو شخص دوسروں کی مرضی کے موافق ہر وقت ایک نوکر کی طرح کام کرتا ہے اُس کو خوف کیا؟ اور اس میں موجد ہونے کی کونسی بات ہے ۔ حالانکہ خلفاء کے لئے تو یہ ضروری