انوارالعلوم (جلد 2) — Page 51
انوار العلوم جلد ۲ ۵۱ منصب خلافت وہ جسمانی ہوں یا مالی ، ذہنی ہوں یا علمی اور اس کے لئے سامان چاہئے ۔ پس اس کے انتظام کیلئے زکوۃ کی مد کا انتظام ہونا ضروری ہے میں نے اس کے انتظام کیلئے یہ تجویز کی ہے کہ زکوۃ سے اس قسم کے اخراجات ہوں ۔ حضرت خلیفہ مسیح کی خدمت میں بھی یہ تجویز میں نے پیش کی تھی۔ پہلے تو میں ان سے بے تکلف تھا اور دو دو گھنٹہ تک مباحثہ کرتا رہتا تھا لیکن جب وہ خلیفہ ہو گئے تو کبھی میں ان کے سامنے چوکڑی مار کر بھی نہیں بیٹھا کرتا تھا جاننے والے جانتے ہیں خواہ مجھے تکلیف بھی ہوتی مگر یہ جرات نہ کرتا اور نہ اونچی آواز سے کلام کرتا ۔ کسی ذریعہ سے میں نے انہیں کہلا بھیجا تھا کہ زکوۃ خلیفہ کے پاس آنی چاہئے ۔ کسی زمانہ میں تو عشر آتے تھے اب وہ وقت نہیں آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اس شخص کو کہا کہ تم مجھے زکوۃ دے دیا کرو میرا یہی مذہب ہے اور میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ زکوۃ خلیفہ کے پاس جمع ہو۔ پس تمہیں چاہئے کہ اپنی انجمنوں میں زکوۃ کے رجسٹر رکھو اور ہر شخص کی آمدنی تشخیص کر کے اس میں درج کرو اور جو لوگ صاحب نصاب ہوں وہ حساب کر کے پوری زکوۃ ادا کریں اور وہ براہ راست انجمن مقامی کے رجسٹروں میں درج ہو کر میرے پاس آ جائے اس کا باقاعدہ حساب کتاب رہے ہاں یہ بھی ضروری ہے کہ جن زکوٰۃ دینے والوں کے بعض رشتہ دار مستحق زکوۃ ہوں کہ ان کی مروز کوہ سے ہو سکتی ہو وہ ایک فہرست اس مطلب کی یہاں بھیج دیں۔ پھر ان کیلئے بھی مناسب مدد یا تو یہاں سے بھیج دی جایا کرے گی یا وہاں ہی سے دے دیئے جانے کا حکم دیا جایا کرے گا۔ بہر حال زکوۃ جمع ایک جگہ ہونی چاہئے اور پھر خلیفہ کے حکم کے ماتحت وہ خرچ ہونی چاہئے ۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر باقاعدہ رجسٹر کھولے گئے اور اس کے جمع کرنے میں کوشش کی گئی تو اس مد میں ہزاروں روپیہ جمع ہو سکتا ہے بلکہ میرا یقین ہے کہ تھوڑے ہی دنوں میں لاکھ سے بھی زیادہ آمدنی ہو سکتی ہے اس طرف زور سے توجہ ہو۔ میں یہ کروں گا کہ مسئلہ زکوۃ پر ایک ٹریکٹ لکھوا کر شائع کر دوں گا۔ جس میں زکوۃ کے تمام احکام ہوں گے مگر آپ کا یہ کام ہے کہ زکوۃ کیلئے با قاعدہ رجسٹر کھول دیں اور نہایت احتیاط اور کوشش سے زکوۃ جمع کریں اور وہ زکوۃ با قاعدہ میرے پاس آنی چاہئے یہ ایک تجویز ہے۔ ترقی تعلیم میں نے بتایا تھا کہ يُزَكِّيهِمْ کے معنوں میں اُبھارنا اور بڑھانا بھی داخل ہے اور اس کے مفہوم میں قومی ترقی داخل ہے اور اس ترقی میں علمی ترقی بھی شامل اور اسی میں انگریزی مدرسه، اشاعت اسلام وَغَيْرَهُمَا امور آ جاتے ہیں اس سلسلہ میں میرا