انوارالعلوم (جلد 2) — Page 602
انوار العلوم جلد ۲ ۶۰۲ حقية النبوة (حصہ اول ) زور کے ساتھ پوری ہوں اور کل دنیا کی نسبت ہوں جیسی حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیاں۔ مسیح موعود تو اکثر نبیوں کی پیشگوئیوں سے اپنی پیشگوئیوں کو زائد بتاتے ہیں اور بعض نبیوں کی پیشگوئیوں کی نسبت فرماتے ہیں کہ ان کو میری پیشگوئیوں سے کوئی نسبت ہی نہیں لیکن یہ نام نہاد احمدی کس حقارت کے ساتھ کہتا ہے کہ چند الہامات جو صرف اس کی ذات کی نسبت یا بعض حوادث کی نسبت ہیں اس پر تم نے اسے نبی ہی بنا دیا اگر مسیح موعود ان چند الهامات سے نبی نہیں بنا تو جن لوگوں کے الهامات کو اس کے الہامات سے نسبت ہی نہیں وہ کس طرح نبی بن گئے حضرت مسیح موعود تو چشمہ معرفت میں فرماتے ہیں کہ :- اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے اور محض افتراء کے طور پر ناحق کے اعتراض پیش کر دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح خدا کا قائم کردہ سلسلہ نابود ہو جائے مگر خدا چاہتا ہے کہ اپنے سلسلہ کو اپنے ہاتھ سے مضبوط کرے جب تک کہ وہ کمال تک پہنچ جاوے ۔ " (چشمہ معرفت خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۳۲) روحانی لیکن بر خلاف اس تحریر کے آج علی الاعلان احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے رسالہ میں یہ لکھا جاتا ہے کہ کیا چند الہامات کی بناء پر جو صرف حضرت مسیح موعود کی ذات کے متعلق اور بعض حوادث کے متعلق تھے ان کو نبی قرار دیا جاتا ہے۔ آہ ! افسوس احمدیت کہاں گئی لکھنے والا تو ہمیشہ سے اسی گند میں مبتلاء چلا آیا ہے مگر ان لوگوں کو کیا ہوا جو آج سے پہلے مسیح موعود کی محبت میں اپنے آپ کو فنا کہتے تھے ۔ کیا میرے مقابلہ کے لئے انہوں نے اپنے دل اس قدر سخت کر لئے ہیں کہ مسیح موعود کی ہتک کے رسالے ان کے خرچ پر شائع کئے جاتے ہیں۔ کیا ان کے لئے اس قدر کافی نہیں کہ وہ مجھے اور میرے باقی رشتہ داروں کو گالیاں دے لیں اور صرف مسیح موعود کو اس سے مستثنیٰ کر لیں کہ وہ تو ان کا بھی محسن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ خلافت کے مسئلہ کو رد کیا جائے اور نبوت پر اصولی بحث کی جائے لیکن وہ مسیح موعود کو جھٹلانے کی تو کوشش نہ کریں اور اس کی ہتک کے لئے تو ہاتھ نہ اٹھا ئیں وہ تو کہتا ہے کہ مجھے جس قدر امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی اس کے مقابلہ میں بعض نبیوں