انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 601

انوار العلوم جلد ۲ r 4۔1 حقيقة النبوة رحمه اول ) ہے آپ نے ایک دو سال بعد کثرت وحی کا اقرار کرنا شروع کیا ہے لیکن اس سے بھی مخالف کو کچھ فائدہ نہ ہو گا اور زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکے گا کہ حضرت مسیح موعود نے تفصیل دعوی کا بھی اظہار ایک دو سال بعد میں کیا ہے مگر اصل بحث پر اس سے کچھ اثر نہ پڑے گا لیکن اصل بات یہی ہے کہ اس جگہ حضرت مسیح موعود نے کثرت مکالمہ سے انکار نہیں کیا بلکہ صرف اس لئے کہ آپ اپنے آپ کو نبی نہ جانتے تھے۔ تھے ۔ نبیوں سے فرق کرنے کے لئے یہ لکھ دیا ہے کہ آپ کی وحی نبیوں کے قریب قریب ہے لیکن اس وقت بعض لوگ حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کر کے اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود کی ہتک کرنے سے بھی باز نہیں آتے چنانچہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے رسالہ المہدی میں اس کے ایڈیٹر حکیم محمد حسین المعروف به مرہم عیسی نے یوں لکھا ہے ”کیا چند الہامات اور کشوف اور غیب کی خبروں سے جو صرف اس کی اپنی ہی ذات یا متعلقین یا چند دیگر اشخاص یا حوادث کے متعلق ہیں وہ محمد ر اوہ محمد رسول اللہ اللہ جیسا نی ہو گیا اگر اس کی یہ مراد ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود کو درجہ میں آنحضرت ا کے برابر خیال کرتے ہیں تو اس سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ نہیں اور اگر نفس نبوت مراد ہے تو وہ اپنے ہی رسالہ کے آخری صفحوں میں مرزا یعقوب بیگ صاحب کا مضمون دیکھے جہاں وہ لکھتے ہیں " آنحضرت ا کی نبوت اور پہلے نبیوں کی نبوت میں بلحاظ نبوت کوئی فرق نہ تھا۔ " اور سمجھ لے کہ بلحاظ نبوت ہم بھی مرزا صاحب کو پہلے غیبوں کے مطابق مانتے ہیں اور بلحاظ درجہ کے آنحضرت ا کو آقا اور حضرت مسیح موعود کو خادم مانتے ہیں اور اگر مسیح موعود بلحاظ نبوت چند الہامات کی بناء پر آپ کے مشابہ نہیں ہو جاتا تو وہ مجھے بتلائے کہ اور دوسرے نبی حضرت مسیح موعود سے کم الہام پا کر بلحاظ نبوت آنحضرت ا کے برابر کس طرح ہو سکتے ہیں وہ خوب یاد رکھے کہ حضرت مسیح موعود کو جو نشانات ملے ہیں وہ چند الہامات نہیں جو صرف ان کی اپنی ذات کی نسبت ہوں بلکہ مسیح موعود کو خدا تعالٰی نے اس قدر کثرت سے غیب پر اطلاع دی ہے کہ آپ تحریر فرماتے ہیں :- اور اگر کہو کہ اس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی معجزات اور پیشگوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں کو ان معجزات اور پیشنگوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں “ ( نزول المسیح صفحه ۸۴، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۶۰) آنحضرت ﷺ کے سوا اور کونسا نبی گزرا ہے جس کی پیشگوئیاں ایسے جلال اور عظمت اور