انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 569

انوار العلوم جلد ؟ ۵۶۹ حقيق النبوة (حصہ اول) موعود کے بڑھنے پر جسد مت کرو کہ اس کا بڑھنا ور حقیقت آنحضرت اللہ کا بڑھتا ہے اور اس کی ترقی پر تیوری مت چڑھاؤ کہ جو اس کی ترقی پر منہ بناتا ہے۔ اس کادل در حقیقت آنحضرت ال کی ترقی کو دیکھ کر جاتا ہے۔ اس بات کو خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ الل نے پہلے انبیاء نے مسیح موعود کا نام نبی رکھا ہے کل شرائط نبوت اس میں پائی جاتی ہیں اس کی نبوت کا انکار کرنے سے خود اللہ تعالیٰ کی ذات پر غلط بیانی کا الزام آتا ہے یا مسیح موعود پر جھوٹ کا۔ پس اس بات سے توبہ کرو جس سے خدائے تعالی رسول اللہ ا پہلے انبیاء اور مسیح موعود کی تکذیب ہوتی ہے کیونکہ یہ راہ خطر ناک ہے اور اس میں طرح طرح کے مصائب ہیں اپنے قدموں کو واپس کر لو کہ تمہارے سامنے ایک گڑھا ہے جس میں گر کر ہلاک نہ ہو جاؤ ۔ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود سے فرمایا ہے۔ کہ دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور اور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔" پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ بجائے اس کی جماعت کو بڑھانے اور اس کے انکار کرنے والوں کو گھٹانے کے وہ اس کی جماعت کے اکثر حصہ کو چھوڑ دے اور گمراہ کر دے کیا وہ خدا جو ازل سے سچ بولتا آتا ہے اور جس نے اس زمانہ میں بھی زبردست نشانوں سے اپنی طاقت اور اپنی صداقت کو ثابت کیا ہے ۔ ان دنوں اپنے وعدہ کے خلاف کرے گا۔ پس بات کو سمجھو اور اچھی طرح سمجھو۔ کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مسیح موعود جب دعوائے نبوت کرے گا تو کچھ لوگ اس کی نبوت کے منکر ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ زبردست نشانوں سے مسیح موعود کی صداقت ظاہر کر دے گا اب بتاؤ کہ اگر حضرت مسیح موعود کے بعد جماعت نے فوراغلو کرنا شروع کر دیتا تھا تو چاہئے تھا کہ الہام کے الفاظ یوں ہوتے کہ دنیا میں ایک جزوی نبی آیا پر دنیا نے اسے نبی قرار دے دیا لیکن خدائے تعالیٰ اس کی جزوی نبوت ثابت کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کے درجہ کی کمی ثابت کر کے دکھا دے گا۔ نہ یہ کہ وہ الفاظ ہوتے جو اب الہام میں موجود ہیں اللہ تعالی تو فرماتا ہے کہ لوگ اس کی نبوت کا انکار کریں گے اور یہ انکار ہی چلا جائے گا حتی کہ اللہ تعالٰی اس کی جماعت کو غالب کر دے لیکن اس کی بجائے ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ مسیح آیا اس کی نبوت کا لوگوں نے انکار کیا اور ابھی انکار کرنے والے ہی زیادہ تھے اور دنیا میں اس کی جماعت کو کوئی خاص ترقی نہ ہوئی تھی اور ابھی زبردست حملے منکروں کو منوانے کے لئے ہو ہی رہے تھے کہ اس کی جماعت نے اس کے