انوارالعلوم (جلد 2) — Page 550
انوار العلوم جلد ۲ ۵۵۰ حقيقة النبوة (حصہ اول) ہوں۔ یعنی نبیوں کی نبوت - کیونکہ جو غیر نبی ہے۔ اس میں بعض کمالات کے پائے جانے کی وجہ سے ایک الگ نبوت تو قائم نہیں ہو جاتی۔ آخر وہ جو کچھ ہے ۔ وہی رہے روہ جو کچھ ہے۔ وہی رہے گا۔ ہم جو محدثوں کی نبوت کبھی لکھتے ہیں تو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ یہ ایک الگ قسم کی نبوت ہے۔ بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ محدث میں بھی بعض کمالات نبوت پائے جاتے ہیں۔ ورنہ نبوت تو نبیوں کی ہی ہوگی۔ پس قسم نبوت کے لحاظ سے ہم صرف ایک نبوت سمجھتے ہیں۔ جس میں وہ تین شرائط پائی جائیں جو میں اوپر لکھ آیا ہوں تو وہ نبی ہے ۔ اور اس میں نبوت پائی جاتی ہے۔ اور جس میں وہ تین شرائط نہ پائی جائیں وہ نبی نہیں۔ اور اگر اس کی طرف ہم نبوت کا لفظ منسوب کرتے ہیں تو صرف اس مطلب کو سمجھانے کے لئے کہ اس میں بھی بعض کمالات نبوت پائے جاتے ہیں نہ یہ کہ اس میں فی الواقعہ نبوت ہے نبی تو ایک اصطلاح شریعت اسلام ہے اور لغت بھی اسی اصطلاح کے معنوں کا اظہار کرتی ہے۔ پس اس اصطلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے نبوت جب ہم کہیں گے تو اس کے معنے ان تین شرائط کا پایا جاتا ہے۔ اور جس میں یہ نبوت پائی جائے گی ۔ پھروہ نبی ہی ہو گا۔ غیر نبی کسی طرح ہو سکتا ہے ۔ غرض نفس نبوت کے لحاظ سے ہم صرف ایک ہی قسم کی نبوت مانتے ہیں۔ باقی رہیں، خصوصیات ان کے لحاظ سے سینکڑوں اقسام کی نبوت ہو سکتی ہے جیسے سب آدمی آدمیت کے لحاظ سے تو ایک ہیں۔ لیکن خصوصیات کو لو تو انسانوں کی ہزاروں قسمیں بن جاتی ہیں۔ کوئی سید ہے کوئی پٹھان ہے کوئی مغل ہے کوئی شیخ ہے کوئی یورپین ہے کوئی ایشیائی ہے کوئی امریکی ہے۔ پھر کوئی ہندی ہے کوئی چینی ہے کوئی عالم ہے کوئی جاہل ہے کوئی بے دین ہے کوئی دیندار ہے ۔ غرض اگر خصوصیات کے لحاظ سے اقسام مقرر کی جائیں تو آدمیوں کی ہزاروں اقسام بن جاتی ہیں۔ مگر کیا اس سے یہ مطلب ہے کہ نفس آدمیت کے لحاظ سے آدمیوں کی کئی قسمیں ہیں ؟ نہیں یہ مطلب نہیں۔ اسی طرح نبیوں کا حال ہے کہ نفس نبوت کے لحاظ سے تو سب نبی نبی ہیں۔ لیکن بعض خصوصیات کی وجہ سے ان کی کئی اقسام نہیں۔ جن میں سے ایک تقسیم کا بیان میں نے اپنے رسالہ میں کیا تھا کہ ایک شریعت لانے والے نبی۔ ایک بلا واسطہ نبوت پانے والے نہیں۔ ایک امتی نہی۔ اس تحریر سے یہ کہاں سے نکال لیا گیا کہ میں نفس نبوت کے لحاظ سے تین قسمیں نبیوں کی قرار دیتا ہوں۔ اس لحاظ سے تو میں ایک ہی قسم نبوت کی سمجھتا ہوں۔ ہاں خصوصیات کو لو تو سینکڑوں اقسام بھی بن سکتی ہیں خود اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا بے تلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَ۔ م در اجت ہے۔ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الـ الْبَيِّنَتِ وَايَدْنُهُ بِرُو: وحِ الْقُدُس (البقره: ۲۵۴ ۲۵۴:۱) پس جبکہ خدا تعالیٰ نے