انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 549

انوار العلوم جلد ۲ ۵۴۹ حقيقة النبوة (حصہ اول) اس کو محد ثیت کی تعریف سے ملا کر ایک طرف رکھ دیا ہے اور لکھ دیا ہے۔ یہ محدثوں والی نبوت سے ر ہوتی ہے کوئی پوچھے کہ جناب نے قرآن کریم کی کسی آیت سے یہ تعریف نکالی ہے۔ حضرت مسیح موعود تو فرماتے ہیں کہ جو شرط نبوت ہے۔ وہ اس امت کے اور کسی بزرگ میں نہیں پائی جاتی۔ اور آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود اپنی نبوت محدثه محمد ثوں والی نبوت قرار دیتے رہے۔ اگر آپ کی نبوت محمد ثوں والی تھی تو آپ محدثوں سے اپنی علیحدگی کیوں ظاہر فرماتے ہیں اور کیوں کہتے ہیں کہ جس شرط کے پائے جانے پر میں نبی ہوں وہ پہلے بزرگوں ولیوں اور اقطاب میں نہیں پائی جاتی لیکن حضرت مسیح موعود کے اس صریح فیصلہ کے ہوتے ہوئے اب دو ہی راہیں ہیں یا تو مسیح موعود کو نبی قبول کیا جائے یا یہ کہہ دیا جا۔ یا یہ کہہ دیا جائے کہ حضرت مسیح موعود ہیں تو محدث ہی۔ لیکن آپ پہلے بزرگوں کو شرط نبوت سے اس لئے محروم قرار دیتے ہیں کہ دراصل اب تک مسلمانوں میں کوئی محدث ہوا ہی نہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب ہو گا کہ اب تک امت محمد محمدیہ میں کوئی شخص مكالمات و مخاطبات۔ مخاطبات کے شرف مشرف کیا ہی نہیں گیا جو با جو بالید است با باطل ہے۔ اور پھر یہ بھی ہو گا کہ وہ سب لوگ جن کو جناب مولوی صاحب اور ان کے دوستوں کی طرف سے محدث قرار دے کر نبوت کا خطاب دیا گیا تھا۔ ان سب سے بھی یہ خطاب واپس لینا پڑے گا۔ اور پھر مرزا صاحب ایک ہی فرورہ جائیں گے۔ جنہوں نے کسی قسم کی نبوت پائی ہے۔ اور یہی خصوصیت ہے جس کے مٹانے کے لئے اس قدر جوش دکھایا جاتا ہے۔ غرض سوائے اس کے کوئی چارہ ہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کو محدثوں کی نبوت سے علیحدہ نبوت قرار دیا جائے۔ اور وہ ایک ہی نبوت ہے یعنی نبیوں کی نبوت۔ اور اگر کوئی تیسری نبوت اور ہے تو اس کا ثبوت دیا جائے اور بتایا جائے کہ ایک نبوت نبیوں کی ہوتی ہے۔ ایک محدثوں کی نبوت ہوتی ہے۔ اور ایک اور تیسری نبوت ہوتی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ جناب مولوی صاحب اپنے رسالہ میں اس دروازہ کو بھی بند کر چکے ہیں۔ اور مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں نبوت کی تین قسمیں بناتا ہوں۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود صرف دو نبوتیں قرار دیتے ہیں۔ ایک نبیوں کی اور ایک محدثوں کی۔ اور مجھ سے ثبوت مانگا ہے کہ میں تیسری نبوت کو ثابت کروں۔ پس اب ان کے لئے یہ راہ نجات بھی بند ہے۔ تیسری نبوت کا دروازہ کھولنا بھی ناممکن ہو گیا ہے ۔ میں اس جگہ یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ جناب مولوی صاحب نے میرا مطلب غلط سمجھ کر مجھ پر نبوت کی تین قسمیں قرار دینے کا الزام دیا ہے ۔ اصل بات یہ ہے۔ جیسا کہ وہ دوست جنہوں نے میری اس کتاب کا شروع سے مطالعہ کیا ہے سمجھ چکے ہوں گے کہ مین نبوت کی ایک ہی قسم سمجھتا