انوارالعلوم (جلد 2) — Page 544
انوار العلوم جلد ۲ ۵۴۴ حقيقة النبوة (حصہ اول) ہے۔ اور اس کی امت میں سے ہے۔ اور یہ بات محال نہیں ہے۔ پس محد ثیت کی نسبت یہ کہہ ہی نہیں سکتے کہ وہ براہ راست مل سکتی ہے۔ اور بہر حال ماننا پڑے گا کہ پہلے نبیوں کی امت میں محدث یعنی جزوی نبی ہوتے تھے اور اسلام میں بھی محدث یعنی جزوی نبی ہوتے ہیں۔ لیکن پہلے نبیوں کے فیض سے نبوت نہیں مل سکتی تھی۔ اور آنحضرت ا کے فیض سے نبوت مل سکتی ہے اور جب نبوت مل سکتی ہے تو مسیح موعود نبی ہوئے نہ کہ محدث - " (۱۹) حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ادا خَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ) یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب رسول اللہ رکھا جاوے - جو آنحضرت ﷺ کے بعد پیدا ہونے والے تھے۔ جنہوں نے آنحضرت ا ل کو نہیں دیکھا۔ آیت ممدوحہ بالا میں یہ تو نہیں فرمایا وَاخَرِينَ مِنَ الْأُمَّةِ بلکہ یہ فرمایا وَاخَرِينَ مِنْهُمُ اور ہر ایک جانتا ہے کہ مِنْهُمْ کی ضمیر اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف راجع ہے۔ لہذا وہی فرقہ منہم میں داخل ہو سکتا ہے ۔ جس میں ایسار سول موجود ہو ۔ کہ جو آنحضرت ا کا بروز ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرت ا کا بروز مجھے قرار دیا ہے ۔ " انہ حقیقہ الوحي ۴ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۵۰۲) ১১ اس حوالہ کے لئے تو کسی طول طویل تشریح کی ضرورت ہی نہیں۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ میں ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ جو صحابہ کی مانند ہو گا اور صحابہ کی مانند وہ گروہ ہو نہیں سکتا۔ جب تک اس میں رسول بھی موجود نہ ہو۔ پس آپ رسول ہیں۔ اور ایسے رسول ہیں کہ جیسے رسول پہلے اس امت میں نہیں گزرے۔ یعنی آپ جزوی نبی یا رسول نہیں ہیں کیونکہ وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ کی آیت کو تو حضرت مسیح موعود نے اپنے پر چسپاں کیا ہے ۔ بلکہ بعض جگہ صاف الفاظ میں اپنی ہی جماعت کی نسبت آخرین کے لفظ پر حصر کیا ہے۔ اور اگر آپ سے پہلے بھی کوئی رسول اسی قسم کا مانا جائے جیسے کہ آپ تھے تو اس کی جماعت بھی واخَرِينَ مِنْهُمْ کے ماتحت صحابہ رسول اللہ بن جائے گی۔ لیکن چونکہ اس امت میں سوائے حضرت مسیح موعود کی جماعت کے کسی جماعت کو آخرین نہیں قرار دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ رسول بھی صرف مسیح موعود ہیں اور چونکہ محد ثین تو پہلے بہت گزر چکے ہیں۔ اس لئے یہ بھی ثابت ہوا کہ مسیح موعود کی رسالت محد ثیت والی نہیں۔ کیونکہ باوجود محدث ہونے کے پہلے لوگ اس آیت کے مصداق نہ بن سکے جس میں ایک