انوارالعلوم (جلد 2) — Page 534
انوار العلوم جلد ۲ ۵۳۴ حقيقة النبوة (حصہ اول) معیاروں کے رو سے آپ کی صداقت ثابت ہے۔ نویں دلیل آپ کی نبوت پر یہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ نبی کے لئے یہ شرط نہیں کہ وہ جدید شریعت لائے یا یہ کہ پہلے نبی کا متبع نہ ہو ۔ اور جب آپ نے نبوت کے متعلق انکار کیا ہے تو یہی کہا ہے کہ میں شریعت جدیدہ نہیں لایا۔ اور نہ میں نے براہ راست نبوت پانی ہے۔ نبوت پائی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نبوت ۔ اہر ہے کہ آپ نبوت کے مدعی تھے کیونکہ آپ نے ان چیزوں سے انکار نہیں کیا جو نبوت کے لئے شرط ہیں۔ دسویں دلیل ۔ جب کبھی حضرت مسیح موعود پر اعتراض ہوا کہ آپ نبوت کے مدعی ہیں تو اس کا جواب آر راب آپ نے یہ نہیں دیا۔ کہ میں نبی نہیں ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نبی تھے۔ ورنہ معترضین کے جواب میں یہ کہہ دینا آسان تھا کہ میں تو نبی نہیں ہوں مگر ۱۹۰۱ء کے بعد جب جواب دیا ہے یہی دیا ہے کہ میں ایسا نبی نہیں ہوں جو شریعت لائے یا بلا واسطہ نبوت پائے ورنہ آسان بات تھی آپ صاف جواب دے دیتے کہ میں نبی نہیں ہوں۔ مگر آپ نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ گیارہویں دلیل ۔ حضرت مسیح موعود کے دعوے کے متعلق جب ایک شخص سے سوال ہوا کہ کیا وہ دعوائے نبوت کرتے ہیں ؟ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں ایسا کوئی دعوی نہیں اس پر حضرت مسیح موعود نے ایک غلطی کا ازالہ نامی ایک اشتہار شائع کیا۔ اور اس شخص کو ڈانٹا۔ اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ اگر آپ ویسے ہی نبی ہوتے جیسے لوگ کہتے ہیں۔ کہ صرف آپ کا نام نبی رکھا گیا ہے تو آپ نے غلطی کا ازالہ اشتہار کیوں شائع کیا۔ معترض نے تو یہ اعتراض کیا تھا کہ کیا ان کا دعوی نبی ہونے کا ہے اور مجیب نے جواب میں کہا کہ نہیں ایسا کوئی دعوی نہیں اگر حضرت مسیح موعود کا ایسا کوئی دعوئی نہ تھا اور آپ نبی نہ تھے تو اشتہار کیوں دیا ۔ دعوئی تو وہ کہلاتا ہے جس میں انسان کسی درجہ پانے کا مدعی ہوتا ہے نہ کہ نام دعوی کہلاتا ہے مثلاً ایک شخص کا نام کمال الدین ہو اور اس سے کوئی شخص یہ سوال کرے کہ کیوں صاحب کیا آپ نے دین کے کمال ہونے کا دعوی کیا ہے تو وہ اس کے جواب میں یہ کبھی نہ کہے گا۔ کہ ہاں میں نے یہ دعوی کیا ہے کیونکہ نام پانا دعوئی نہیں کہلاتا۔ اور اس کا دین کا کمال ہونے کے دعوی کے انکار سے اس پر جھوٹ کا الز کا الزام نہ آئے گا۔ اسی طرح مثلاً ایک شخص حکیم صاحب کے نام سے مشہور ہو اور کوئی شخص اس سے پوچھے کہ جناب کیا آپ حکیم صاحب ہیں تو وہ کہہ سکتا ہے کہ ہاں لیکن اگر اس سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا آپ حکیم ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو اس کا جواب وہ یہ دے گا کہ نہیں مجھے حکیم ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں اور یہی