انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 522

انوار العلوم جلد ۲ ۵۲۲ حقيقة النبوة (حصہ اول) اصحاب جو نبوت مسیح موعود کا انکار اس وجہ سے کر رہے تھے ۔ کہ اب تک انہیں اس صداقت کا علم نہ تھا صداقت کے ظاہر ہونے کے بعد اور اس کے رد کر دینے سے جو خطرات پیدا ہو سکتے ہیں ان کے معلوم کر لینے کے بعد ایک منٹ کے لئے بھی ایسے عقیدہ پر قائم نہ رہیں گے جو بالواسطہ اللہ تعالیٰ یا اس کے مسیح موعود پر ایک مکروہ بہتان باندھنے کا باعث ہوتا ہے۔ ممکن ہے کوئی شخص یہ کہہ دے کہ اس آیت سے ہرگز ثابت نہیں ہو تاکہ سوائے رسولوں کے اور کسی پر اللہ تعالی کثرت سے غیب ظاہر نہیں کرتا بلکہ ہم تو اس سے یہ مطلب لیتے ہیں کہ برسولوں پر ضرور غیب ظاہر کرتا ہے ۔ باقی بھی کسی پر کر دے تو کچھ حرج نہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے ۔ کہ ایسا خیال صرف جہالت اور عربی زبان سے ناواقفیت کے نتیجہ میں پیدا ہو سکتا ہے ۔ ورنہ جو لوگ عربی زبان جانتے ہیں انہیں یہ خیال کبھی نہیں پیدا ہو سکتا۔ کہ اس آیت کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ رسولوں کے سوا اور لوگوں پر بھی کثرت سے امور غیبیہ کا اظہار ہو سکتا ہے پس ایسے شخص کو چاہئے کہ کسی عربی زبان کے واقف سے جاکر اس آیت کے معنے کرالے پھر اعتراض کی کوشش کرے۔ اس آیت کے معنی سوائے دو کے اور تیسرے بن ہی نہیں سکتے ۔ اور وہ یہ ہیں۔ -1 اگر مِنْ تَبْغِيضيہ مانا جائے تو اس آیت کے یہ معنی ہوں گے ۔ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنے غیب پر کثرت سے اطلاع نہیں دیتا۔ سوائے ان کے جن پر راضی ہوتا ہے رسولوں میں سے یعنی رسولوں میں سے جن پر راضی راضی : ہوتا ہے۔ ان پر اظہار غیب کرتا ہے نہ کہ سب پر۔ سواگر یہ معنی کریں۔ تب یہ مطلب نکلے گا۔ کہ اظہار علی الغیب کا مرتبہ ایسا بڑا ہے۔ کہ رسولوں میں سے بھی سب کو حاصل نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض کو حاصل ہوتا ہے پس یہ معنے اگر کئے جائیں تب بھی اس آیت سے یہی ظاہر ہے کہ غیر تو غیر بعض رسولوں کو بھی یہ مرتبہ نہیں ملتا۔ جس سے یہ امر بالبداہت ثابت ہو جاتا ہے کہ غیر نبی کو اظہار علی الغیب کا مرتبہ کبھی نہیں دیا جاتا۔ لیکن مِنْ کو تَبْغِيضيه بنانا بعض دوسری آیات کے خلاف ضرور معلوم ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے۔ وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ جس سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ سب رسولوں سے تبشیر و انذار کا کام لیا جاتا ہے نہ کہ بعض سے ۔ لیکن ہمارا مطلب ان معنوں سے بھی بہر حال ثابت ہے۔ ۰۲ دوسرے معنی اس آیت کے یہ ہو سکتے ہیں کہ مین کو بیا نیہ قرار دیا جائے اور یہ معنی کئے جائیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں یعنی رسولوں پر اظہار غیب کرتا ہے ان کے سوا اور کسی