انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 521

انوار العلوم جلد ۲ ۵۲۱ حقيقة النبوة (حصہ اول) دیں کہ نعوذ باللہ من ذالک حضرت مسیح موعود نے غلط کہا ہے کہ آپ کو غیب پر کثرت سے اطلاع دی جاتی تھی۔ کیونکہ آپ غیر نبی تھے۔ اور نبی کے سوا کسی کو کثرت سے غیب پر اطلاع نہیں دی جاتی۔ پس یہ ممکن ہی نہیں۔ کہ آپ کو غیب پر کثرت سے اطلاع دی گئی ہو ۔ لیکن ہر ایک وہ شخص جو مسیح موعود پر ذرہ بھی ایمان رکھتا ہے۔ اس قول کے کہنے کی کبھی جرات نہیں کر سکتا۔ اور جو یہ جرأت کرے گا۔ اس کا ایمان یقیناً سلب ہو جائے گا اور آخر بے ایمانی کی موت مرے گا۔ غرض کہ فَلَا يُظْهِرُ عَلی غیبہ کی آیت کے ماتحت جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں تین باتوں میں سے ایک بات ضرور ماننی پڑتی ہے۔ یا تو یہ کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے اور خداتعالی نے سچ فرمایا ہے کہ سوائے رسولوں کے دوسروں پر وہ کثرت سے امور غیبیہ ظاہر نہیں کیا کرتا۔ اور حضرت مسیح موعود نے بھی کہا ہے کہ آپ پر اظہار غیب کثرت سے ہوا کرتا تھا۔ اور یا یہ کہ آپ نبی نہ تھے۔ لیکن یہ آیت نبی ہونے کے لئے حجت نہیں۔ کیونکہ یہ بات نعوذ باللہ اللہ تعالی نے غلط فرمائی ہے کہ وہ سوائے رسولوں کے دوسروں پر اظہار غیب کثرت سے نہیں کرتا۔ حالانکہ وہ ایسا کر دیا کرتا ہے جیسے کہ مرزا صاحب کے ساتھ اس نے ایسا ہی سلوک کیا ہے جو غیر ہی ہیں۔ یا تیسری بات یہ ماننی پڑے گی۔ کہ اللہ تعالیٰ نے تو جو کچھ فرمایا ہے درست ہی فرمایا ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود نعوذ باللہ غلط کہتے رہے ہیں۔ کہ آپ پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کئے گئے ہیں۔ آپ تو غیر نبی تھے ۔ آپ کے ساتھ یہ سلوک کس طرح ہو سکتا تھا۔ حضرت مسیح موعود کی نبوت کو مان کریا اس سے انکار کر کے ان تینوں راہوں میں سے کوئی راہ ضرور اختیار کرنی پڑے گی۔ اور اب یہ ہر ایک شخص کا اپنا کام ہے کہ جس راہ کو چاہے اختیار کرلے۔ یا تو حضرت مسیح موعود کو نبی مان کر اللہ تعالی کی طرف بھی کوئی عیب نہ منسوب کرے اور نہ حضرت مسیح موعود کو جھوٹا کے ۔ خدا اور اس کے رسول دونوں کی تصدیق کرے۔ اور یا حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کر کے خدا تعالی یا مسیح موعود دونوں میں سے ایک پر جھوٹ کا اتہام اور بہتان لگاوے ۔ اور اپنی آخرت تباہ کرلے۔ مجھے اس امر پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔ کہ ان دونوں راہوں میں سے کونسی راہ پر امن اور خطرات سے خالی ہے۔ اور کونسی راہ ہلاکت اور تباہی کی طرف لے جانے والی ہے ۔ انسان ناواقفیت کی وجہ سے ایک بات کہہ دے تو وہ اور بات ہے ۔ لیکن صداقت معلوم ہونے پر باطل پر قائم رہنا مؤمن کا کام نہیں۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ وہ تمام