انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 517

: انوار العلوم جلد ۲ ۵۱۷ حقيقة النبوة ( حصہ اول) اس طرح نبی کہا جاتا تھا تب وہ نبی ہوتے تھے اور مسیح موعود کو اس کے خلاف کسی اور طرح نبی کہا گیا ہے پس وہ نبی نہیں ہوئے۔ کیا اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی یقینی وحی کی موجودگی میں کوئی شخص مسیح موعود کی نبوت کا انکار کر سکتا ہے اور جو شخص انکار کرتا ہے۔ اسے ضرور پہلے نبیوں کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ حضرت موسی اور حضرت مسیح کی نبوت جن دلائل اور جن الفاظ سے ثابت ہوتی ہے ان سے بڑھ کر دلائل اور صاف الفاظ حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق موجود ہیں ان کے ہوتے ہوئے اگر مسیح موعود نبی نہیں تو دنیا میں آج تک کبھی کوئی نبی ہوا ہی نہیں۔ اور اگر وہ دلائل حضرت مسیح موعود کی نبوت ثابت نہیں کرتے ۔ تو ہمارے سامنے وہ دلائل پیش کرو جن کے رو سے کسی نبی کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے ۔ اگر ضد اور تعصب کو چھوڑ دیا جائے تو اس سے زبردست دلیل اور کیا ہو سکتی ہے۔ کہ ایک شخص کو اللہ تعالی نے متواتر تئیس سال تک نبی اور رسول کے نام سے یاد کیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود کی نبوت پر معترض ہیں۔ اتنا تو سوچیں کہ نبی بنانا خدا کا کام ہے یا انسان کا۔ اگر خدا کا کام ہے۔ تو وہ کسی کو نبی کس طرح بناتا ہے ۔ کیا ہمیں خدا تعالی کے کسی کو نبی بنانے کا علم اسی طرح نہیں ہوتا۔ کہ اس نے اسے نبی اور رسول کا خطاب دیا ہے ؟ اگر اسی طرح ہمیں کسی شخص کے نبی بن جانے کا علم ہوتا ہے تو کیا حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالٰی نے تئیں بریس نبی اور رسول کے نام سے نہیں پکارا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ نبی نہ ہوئے۔ کیا انسان کی طاقت ہے کہ وہ خدا کے ہاتھ کو پکڑ لے کہ گو تو کسی کو نبی بنائے مگر ہم اسے نہیں نہیں بننے دیں گے۔ حضرت مسیح موعود پر جب لوگ اعتراض کرتے تھے کہ یہ مسیح کس طرح ہو گئے۔ تو آپ جواب دیا کرتے تھے کہ یہ خدا کا کام تھا۔ اس نے کر دیا ۔ اگر تم کو یہ فیصلہ منظور نہیں۔ تو جاؤ ا خدا سے جنگ کرو۔ میں بھی منکرین نبوت مسیح موعود سے کہتا ہوں کہ نبی بنا نا خدا کا کام ہے اور اس نے اپنے حکم سے مسیح موعود کو نبی بنا دیا۔ اب اگر کسی کو اس فعل الہی پر اعتراض ہے۔ تو وہ خدا سے لڑے۔ مگر کیا کسی کی طاقت ہے۔ کہ جسے خدا نبی بنائے اسے وہ نبی ہونے سے روک دے۔ یہ کسی انسان کی طاقت نہیں پس نادان ہے وہ انسان جو اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے بعد پھر بھی مسیح موعود کی نبوت کو مٹانا چاہتا ہے کیونکہ جس بات کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے کر لیا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور جو انعام خدا تعالٰی نے مسیح موعود کو دیا ہے۔ اسے کوئی واپس نہیں کر سکتا۔ نبوت کی چادر اللہ تعالٰی نے خود مسیح موعود کے کاندھوں پر ڈال دی ہے۔ اب کسی انسان کی طاقت نہیں کہ اس چادر کو مسیح موعود کے کاندھوں