انوارالعلوم (جلد 2) — Page 32
انوار العلوم جلد ۲ ۳۲ منصب خلافت انجمنیں بھی جمع کر لیتی ہیں ۔ اگر کسی نبی یا اس کے خلیفہ کا بھی یہی کام ہو تو نَعُوذُ بِالله یہ سخت ہنک اور بے ادبی ہے اس نبی اور خلیفہ کی ۔ یہ سچ ہے کہ ان مقاصد اور اغراض کی تکمیل کیلئے جو اس کے سپرد ہوتے ہیں اس کو بھی روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بھی مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللهِ کہتا ہے مگر اس سے اس کی غرض روپیہ جمع کرنا نہیں بلکہ اس رنگ میں بھی اس کی غرض وہی تکمیل اور تزکیہ ہوتی ہے۔ اور پھر بھی اس غرض کیلئے اس کی قائم مقام ایک انجمن یا شوری ہوتی ہے جو انتظام کرے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ خلیفہ کا کام روپیہ جمع کرنا نہیں ہوتا اور نہ اس کے اغراض و مقاصد کا دائرہ کسی مدرسے کے جاری کرنے تک محدود ہوتا ہے یہ کام دنیا کی دوسری قو میں بھی کرتی ہیں ۔ خلیفہ کے اس قسم کے کاموں اور دوسری قوموں کے کاموں میں فرق ہوتا ہے وہ ان امور کو بطور مبادی اور اسباب کے اختیار کرتا ہے یا اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے دوسری قو میں اس کو بطور ایک اصل مقصد اور غایت کے اختیار کرتی ہیں ۔ حضرت صاحب نے جو مدرسہ بنایا اس کی غرض وہ نہ تھی جو دوسری قوموں کے مدرسوں کی ہے۔ پس یا درکھو کہ خلیفہ کے جو کام ہوتے ہیں وہ کسی انجمن کے ذریعہ نہیں ہو سکتے ۔ اس قومی اجتماع کی کیا غرض ہے اب آپ کو جو بلایا گیا ہے تو خدا تعالیٰ نے 4 میرے دل میں ڈالا کہ میں ان کا کاموں کے سے مشورہ کروں کہ انہیں کس طرح کروں؟ میں متعلق جوخه جو خدا نے میرے سپرد سپرد کر دیتے ہیں آپ سے مشورہ کروں کے سپردکرد۔ جانتا ہوں اور نہ صرف جانتا ہوں بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ آپ میری ہدایت اور راہنمائی کرے گا کہ مجھے کس طرح ان کو سر انجام دینا چاہئے لیکن اس نے مشورہ کا بھی تو حکم دیا ہے۔ یہ کام اس نے خود بتائے ہیں اُس ۔ اُس نے آپ میرے رے دل میں اس میں اس آیت کو ڈالا بیت کو ڈالا جو میں نے پڑھی ہے۔ پرسوں مغرب یا عصر کی نماز کے وقت یکدم میرے دل میں ڈالا ۔ میں حیران تھا کہ بلا تو لیا ہے کیا کہوں؟ اس پر یہ آیت اُس نے میرے دل میں ڈالی ۔ پس یہ چار کام انبیاء اور ان کے خلفاء کے ہیں۔ ان کے سرانجام دینے میں مجھے تم سے مشورہ کرنا ہے میں اب ان کاموں کو اور وسیع کرتا ہوں ۔ ہوں جب ان میں نے غور چار نہیں بلکہ آٹھ میں اس آیت کی ایک اور تشریح کرتا ہوں جب ان پر میں کیا تو معلوم ہوا کہ ان چار میں اور معنے پوشیدہ تھے اور اس طرح پر