انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 31

انوار العلوم جلد ۲ منصب خلافت سیکرٹری کی بات کو مان سکتا ہے؟ یا آج تک کہیں اس پر عمل ہوا ہے؟ اور جگہ کو جانے دو یہاں ہی بتا دو کہ کبھی انجمن کے ذریعہ یہ کام ہوا ہو ؟ ہاں چندوں کی یاد دہانیاں ہیں وہ ہوتی رہتی ہیں۔ یہ پکی بات ہے کہ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ کیلئے ضرور خلیفہ ہی ہوتا ہے کیونکہ کسی انجمن کے سیکرٹری کیلئے یہ شرط کہاں ہے کہ وہ پاک بھی ہو۔ ممکن ہے ضرور تا عیسائی رکھا جاوے یا ہندو ہو جو دفاتر کا کام عمدگی سے کر سکے پھر وہ خلیفہ کیونکر ہو سکتا ہے؟ خلیفہ کیلئے تعلیم الکتاب ضروری ہے، اس کے فرائض میں داخل ہے سیکرٹری کے فرائض میں قواعد پڑھ کر دیکھ لو کہیں بھی داخل نہیں ۔ پھر خلیفہ کا کام ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکام کے اغراض و اسرار بیان کرے جن کے علم سے ان پر عمل کرنے کا شوق و رغبت پیدا ہوتی ہے۔ مجھے بتاؤ کہ کیا تمہاری انجمن کے سیکرٹری کے فرائض میں یہ بات ہے؟ کتنی مرتبہ احکام الہیہ کی حقیقت اور فلاسفی انجمن کی طرف سے تمہیں سکھائی گئی؟ کیا اس قسم کے سیکرٹری رکھے جا سکتے ہیں؟ یا انجمنیں اس مخصوص کام کو کر سکتی ہیں؟ ہر گز نہیں ۔ انجمنیں محض اس غرض کیلئے ہوتی ہیں کہ وہ بہی کھاتے رکھیں اور خلیفہ کے احکام کے نفاذ کیلئے کوشش کریں ۔ پھر خلیفہ کا کام ہے۔ يُزَكِّيهِم قوم کا تزکیہ کرے۔ کیا کوئی سیکرٹری اس فرض کو ادا کر سکتا ہے؟ کسی انجمن کی طرف سے یہ ہدایت جاری ہوئی ، یا تم نے سنا ہو کہ سیکرٹری نے کہا ہو کہ میں قوم کے تزکیہ کیلئے رو رو کر دعائیں کرتا ہوں؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ کام سیکرٹری کا ہے ہی نہیں اور نہ کوئی سیکرٹری کہہ سکتا ہے کہ میں دعائیں کرتا ہوں جھوٹا ہے جو کہتا ہے کہ انجمن اس کام کو کر سکتی ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں اس کو کرسکتی ہے۔ میں خدا کی کھاکر کہتا کہ کوئی سیکرٹری یہ کام نہیں کر سکتا اور کوئی انجمن نبی کے کام نہیں کر سکتی ۔ اگر انجمنیں یہ کام کر سکتیں تو نبی کے کرسکتی۔ خدا تعالیٰ دنیا میں مامور اور مرسل نہ بھیجتا بلکہ اس کی جگہ انجمنیں بنا تا مگر کسی ایک انجمن کا پتہ دو جس نے کہا ہو کہ خدا نے ہمیں مامور کیا ہے۔ کوئی دنیا کی انجمن نہیں ہے جو یہ کام کر سکے۔ ممبر تو اکٹھے ہو کر چند امور پر فیصلہ کرتے ہیں کیا کبھی کسی انجمن میں اس آیت پر بھی غور کیا گیا ہے۔ یاد رکھو خدا تعالیٰ جس کے سپرد کوئی کام کرتا اُسی کو بتاتا ہے کہ تیرے یہ کام ہیں ۔ یہ کام ہیں جو انبیاء اور خلفاء کے ہوتے تے ہیں۔ رو پید اکٹھا کرنا ادنی درجہ کا کام ہے۔ خلفاء کا کام انسانی تربیت ہوتی ہے اور ان کو خدا تعالیٰ کی معرفت اور یقین کے ساتھ پاک کرنا کرنا ہوتا ہے۔ روپیہ تو آ ۔ روپیہ تو آریوں اور عیسا اور عیسائیوں کی انجمنیں بلکہ دہریوں کی ہے