انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 478

انوار العلوم جلد ۲ ۲۷۸ حقيقة النبوة (حصہ اول) یہ میری ہی تحقیق نہیں۔ حضرت مسیح موعود نے بھی اپنا عقیدہ اس کے مطابق بیان فرمایا ہے۔ اور مسیح موعود کے بیان کے فیصلہ کے بعد مؤمن کو تردد کی گر مؤمن کو تردد کی گنجائش نہیں رہتی۔ آپ فرماتے ہیں: دفعہ آر میں جس طرح قرآن شریف یک دفعہ نہیں اترا۔ اسی طرح اس کے معارف بھی دلوں پر یک دفعہ نہیں اترتے۔ اسی بناء پر محققین کا یہی مذہب ہے کہ آنحضرت ا کے معارف بھی یک آپ کو نہیں ملے۔ بلکہ تدریجی طور پر آپ نے علمی ترقیات کا دائرہ پورا کیا ہے۔ ایسا ہی : ہوں۔ جو بروزی طور پر آپ کی ذات کا مظہر ہوں۔ آنحضرت اللہ کی تدریجی تر ا تدریجی ترقی میں سریہ تھا کہ آپ کی ترقی کا ذریعہ محض قرآن تھا۔ پس جبکہ قرآن شریف کا نزول تدریجی تھا۔ اسی طرح آنحضرت کی تکمیل معارف بھی تدریجی تھی۔ اور اسی قدم پر مسیح موعود ہے جو اس وقت تم میں ظاہر ہوا"۔ (نزول المسیح صفحه ۴۵ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۲۱) نبوت کے متعلق بعض اصطلاحات میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے مختصر طور پر یہ لکھ دینا پسند کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود نے جو مختلف اصطلاحات نبوت کے متعلق قرار دی ہیں۔ ان سے کیا مطلب ہے ؟ یاد رہے کہ حضرت مسیح موعود نے بے شک بعض اصطلاحات نبوت کی تشریح کے لئے مقرر فرمائی ہیں۔ لیکن وہ اصطلاحات قرآن کریم یا حدیث کے الفاظ نہیں ہیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود نے لوگوں کو نبوت کی اقسام سمجھانے کے لئے خود وضع فرمائی ہیں اور چونکہ آپ نے خودان اصطلاحات کو وضع فرمایا ہے۔ اس لئے ان کے وہی معنی کرنے درست ہوں گے۔ جو آپ نے خود فرما دیتے ہیں نہ کہ کوئی اور معنی مثلاً قرآن شریف میں صلوٰۃ کے معنی نماز کے ہیں نماز تو آنحضرت ا نے مقرر فرمائی ہے اس سے پہلے تو تھی نہیں۔ اس لئے گو صلوٰۃ کے معنی دعا کے ہیں لیکن جب شریعت اسلام میں بغیر کسی اور قرینہ کے صلوٰۃ کا لفظ آئے گا تو اس کے معنی نماز کے ہوں گے نہ کہ دعا کے۔ پس اسی طرح حضرت مسیح موعود نے جو اصطلاح تجویز کی ہے اور پہلے وہ ان معنوں میں لغت میں استعمال نہیں ہوئی۔ تو ہمیں اس اصطلاح کے وہی معنی کرنے ہوں گے جو خود حضرت مسیح موعود نے کر دیتے ہیں۔ تے سے اور اگر ہم ایسا نہ کریں گے تو حضرت مسیح موعود کے مدعا کے خلاف ہم آپ کی عبارتوں کا کچھ ۔ کچھ مطلب بنا دیں گے میں اس جگہ چند ایسی اصطلاحیں اور ان کے جو معنی خود حضرت مسیح موعود