انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 477

انوار العلوم جلد ۲ ۴۷۷ حقيقة النبوة ( حصہ اول) ایک حکم گھڑ کر سنا دیا جاتا تھا۔ نعوذ باللہ من ذالک ۔ ایسے معترض نہیں سوچتے کہ اللہ تعالی کے تمام کاموں میں حکمت ہوتی ہے۔ اور وہ مختلف حکمتوں کے مطابق کام کرتا ہے قرآن کریم کے آہستہ آہستہ اترنے کی غرض یہ تھی تاکہ صحابہ اس پر پورے طور پر عامل ہو جائیں۔ اور ایک ایک حکم کو اچھی طرح یاد کر لیں۔ حضرت موسیٰ پر یکدم کتاب اس لئے نازل ہوئی کہ ان کی سب جماعت ان کے ماتحت تھی۔ اور وہ بادشاہانہ اقتدار رکھتے تھے۔ لیکن ہمارے آنحضرت ا کو ایک خطرناک مخالف قوم کو منوانا اور پھر راہ راست پر چلانا پڑتا تھا۔ پس اپنے بندوں کی آسانی کے لئے اللہ تعالٰی نے آہستہ آہستہ کتاب اتاری۔ اس وقت حضرت مسیح موعود کے دعوے کا اظہار بھی اسی لئے آہستہ آہستہ ہوا۔ اور گو خدا تعالیٰ تو براہین کے و راہین کے وقت سے اپنا فیصلہ صادر فرما چکا تھا۔ لیکن اس کا ظہور آہستہ آہستہ ہوا۔ یعنی اول ۱۸۹۱ء میں اور پھر ۱۹۰۱ء میں۔ اور اس طرح اللہ تعالٰی نے بہت بہت سی کمزور طبائع پر رحم فرما کر انہیں ٹھو کر کھانے سے بچالیا۔ اور جس قدر استعداد پیدا ہوتی گئی ان پر اظہار کیا جاتا رہا اور آنحضرت ا کا دعوی بھی اسی طرح ہوا۔ سب سے پہلے آپ پر اقرا بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (العلق : ۲) نازل ہوئی ۔ اس میں دیکھ لو کہ نبی کے نام سے آپ کو نہیں پکارا گیا۔ پھر سورۃ مزمل کی ابتدائی چند آیات نازل ہوئیں اور آپ کو مأمور مقرر کیا گیا لیکن ان میں بھی نبی اور رسول کا لفظ نہیں۔ ہاں چند ماہ کے اندر آپ کو رسول کے لفظ سے یاد کیا گیا۔ جیسا کہ سورۃ مزمل کی آخری آیات سے ظاہر ہے۔ اسی طرح کل دنیا کی طرف ہونے کا دعوی آنحضرت ا نے بہت بعد میں کیا۔ اور قرآن کریم کی وہ آیات جن میں سب دنیا کو اس نور و ہدایت کی پیروی کی دعوت دی گئی ہے بہت مدت بعد کی ہیں۔ پھر خاتم النبین ہونے کا اعلان بھی مدینہ میں ہوا ہے اسی طرح حضرت مسیح کا دعوی بھی آہستہ آہستہ ہوا ہے۔ اور کلیسیا کی تاریخ کے واقفوں نے اس امر پر کتابیں لکھی ہیں کہ حضرت مسیح نے آہستہ آہستہ اپنے دعوی کو ظاہر کیا۔ اور اناجیل کو جو شخص غور سے پڑھے گا وہ بھی یہ بات معلوم کرلے گا کہ حضرت مسیح کا دعوی بھی بتدریج ظاہر ہوا۔ غرض کہ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی اصل دعوی کو اپنے کلام میں ظاہر تو پہلے ہی کر دیتا ہے لیکن اس پر ایک پردہ ڈال دیتا ہے۔ جسے ایک خاص وقت پر اٹھا دیتا ہے ۔ ہمارے آ اٹھا دیتا ہے۔ ہمارے آنحضرت ا جب مبعوث ہوئے تو اس وقت سے خاتم النبین تھے۔ اور قرآن کریم کی ایک ایک آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے بعد اور کسی کتاب کی ضرورت نہیں۔ لیکن ظاہر الفاظ میں بعد میں اعلان کیا گیا کہ اب یہ شخص خاتم النبین ہے ۔