انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 28

انوار العلوم جلد ۲ ۲۸ منصب خلافت واقعات کا آپس میں جوڑ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ مجھے یہ سب کچھ سکھا دیا ہے۔ سورۃ بقرہ کی ترتیب کس طرح سمجھائی گئی حضرت خلیفہ المسیح کی زندگی کا واقعہ ہے کہ منشی فرزند علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے قرآن مجید پڑھنا چاہتا ہوں، اس وقت ان سے میری اس قدر واقفیت بھی نہ تھی میں نے غذر کیا مگر انہوں نے اصرار کیا میں نے سمجھا کہ کوئی منشاء الہی ہے آخر میں نے ان کو شروع کرا دیا ایک دن میں پڑھا رہا تھا کہ میرے دل میں بجلی کی طرح ڈالا گیا کہ آیت رَبَّنَا وَابْعَثُ فِيهِمُ رَسُولًا مِنْهُم ير سورۃ بقرہ کی کلید ہے اور اس سورۃ کی ترتیب کا راز اس میں رکھا گیا ہے اس کے ساتھ ہی سورۃ بقرہ کی ترتیب پورے طور پر میری سمجھ میں آ گئی، اب آپ اس کو مدنظر رکھ کر سورۃ بقرہ کی ترتیب پر غور کریں تو حقیقت معلوم ہو جائے گی ۔ ترتیب سورۃ بقرہ اب غور کرو! پہلے بتایا کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا عالم خدا ہے، پھر بتایا کہ قرآن مجید کی کیا ضرورت ہے کیونکہ سوال ہوتا تھا کہ مختلف مذاہب کی موجودگی میں اس مذہب کی کیا ضرورت پیش آئی اور یہ کتاب خدا تعالٰی نے کیوں نازل کی ؟ اس کی غرض و غایت بتائی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی سب مذاہب تو صرف متقی بنانے کا دعوی کرتے ہیں اور یہ کتاب ایسی ہے جو متقی کو بھی آگے لے جاتی ہے۔ متقی تو اسے کہتے ہیں جو انسانی کوشش کو پورا کرئے پس اسے آگے لے جانے کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ اب خود اس سے ہمکلام ہو۔ پھر متقین کے اعمال اور کام بتائے پھر بتایا کہ اس کتاب کے ماننے والوں اور منکروں میں کیا امتیاز ہوگا ؟ پھر بتایا کہ انسان چونکہ عبادت الہی کے لئے پیدا ہوا ہے اس لئے اس کے لئے کوئی ہدایت نامہ چاہئے اور وہ ہدایت نامہ خدا کی طرف سے آنا چاہئے پھر بتایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آتی بھی رہی ہے جیسے کہ ابتدائے عالم میں آدم کی بعثت ہوئی اس کے بعد اس کو اور کھولا اور آدم کی مثال پیش کر کے بتایا کہ یہ سلسلہ و ہیں ختم نہ ہو گیا بلکہ ایک لمبا سلسلہ انبیاء کا بنی اسرائیل میں ہوا۔ جو موجود ہیں ان سے پوچھو ہم نے ان پر کس قدر نعمتیں کی ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ ظالم ہمارے کلام کے مستحق نہیں ہو سکتے اب جبکہ یہ ظالم ہو گئے ہیں ان کو ہمارا کلام سننے کا حق نہیں اب ہم کسی اور خاندان سے تعلق کریں گے اور وہ بنی اسمعیل کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ ابراہیم علیہ السلام سے خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ دونوں بیٹوں کے ساتھ نیک سلوک کروں گا جب ایک سے وہ وعدہ پورا ہوا تو ضرور تھا کہ دوسرے سے بھی پورا ہو چنانچہ بتایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے XXXXXXXX