انوارالعلوم (جلد 2) — Page 26
انوار العلوم جلد ۲ ۲۶ منصب خلافت خدا کے حضور توجہ کی تو یہ آیت میرے دل میں ڈالی گئی کہ اسے پڑھو۔ ۴ اس آیت کی تلاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی یا خلیفہ کا پہلا کام یہ ہوتا تفسیر دعائے ابراہیم ہے کہ وہ آیت اللہ لوگوں کو سنائے۔ آیت کہتے ہیں نشان کو، دلیل کو جس سے کسی چیز کا پتہ لگے۔ پس نبی جو آیات اللہ پڑھتا ہے اس سے یہ مراد ہے کہ وہ ایسے دلائل سناتا اور پیش کرتا ہے جو اللہ تعالی کی ہستی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرشتوں ، رسولوں اور اس کی کتب کی تائید اور تصدیق ان کے ذریعہ ہوتی ہے۔ پس اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو ایسی باتیں سنائے جن سے ان کو اللہ پر اور نبیوں اور کتب پر ایمان حاصل ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی اور اس کے جانشین خلیفہ کا پہلا کام تبلیغ الحق اور دعوت الی پہلا کام الخیر ہوتی ہے۔ وہ سچائی کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے۔ اور اپنی دعوت کو دلائل اور نشانات کے ذریعہ مضبوط کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ وہ تبلیغ کرتا ہے۔ پھر دو سرا فرض نبی یا خلیفہ کا اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے ويُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبُ ان کو دو سرا کام کتاب سکھادے ۔ انسان جب اس بات کو مان لے کہ اللہ تعالی ہے اور اس کی طرف سے دنیا میں رسول آتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ملائکہ ان پر اترتے ہیں اور ان کے ذریعہ کتب الہیہ نازل ہوتی ہیں تو اس کے بعد دوسرا مرحلہ اعمال کا آتا ہے کیونکہ خدا تعالی پر ایمان لا کر دو سرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کو اب کیا کرنا چاہئے اس ضرورت کو پورا کرنے والی آسمانی شریعت ہوتی ہے اور نبی کا دوسرا کام یہ ہے کہ ان نو مسلموں کو شریعت سکھائے ان ہدایات اور تعلیمات پر عمل ضروری ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے رسولوں کی معرفت آتی ہیں پس اس موقعہ پر دو سرا فرض نبی کا یہ بتایا گیا ہے۔ کہ وہ انہیں فرائض کی تعلیم دے کتاب کے معنے شریعت اور فرض کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں یہ لفظ فرض کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے جیسے كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ پس اس ترتیب کو خوب یاد رکھو کہ پہلا کام اسلام میں لانے کا تھا۔ دوسرا ان کو شریعت سکھانے اور عامل بنانے کا۔ عمل کے لئے ایک اور بات کی ضرورت ہے اس وقت تک انسان کے اندر کسی کام کے تیسرا کام کرنے کے لئے جوش جوش اور شوق پیدا نہیں ہوتا جب تک اسے اس کی حقیقت اور حکمت سمجھ میں نہ آجائے ۔ اس لئے تیسرا کام یہاں یہ بیان کیا وَ الْحِكْمَةَ اور وہ ان کو حکمت کی