انوارالعلوم (جلد 2) — Page 429
انوار العلوم جلد ۲ ۴۲۹ حقيقة النبوة (حصہ اول) هُوَ أَفْضَلُ رُسُلِ اللهِ وَ انْبِيَائِهِ وَنَعْتَقِدُ بِأَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ إِلَّا الَّذِي هُوَ مِنْ أُمَّتِهِ وَ مِنْ اَكْمَلِ اَتْبَاعِهِ۔ اتْبَاعِهِ الَّذِي وَ ى وَجَدَ الْفَيْضَ كُلَّهُ مِنْ رَوْحَانِيَّتِهِ وَأَضَاءَ بِضِيَائِهِ فَهُنَاكَ لَا غَيْرَ وَ لَا مَقَامَ الْغَيْرَةِ وَلَيْسَتْ بِنُبُوَّةِ أُخْرى ۔ (مواہب الرحمن صفحه 49- د روه روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۸۵) اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے۔ اور اس کی پیروی سے خدا تعالٰی کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔ مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ نبوت کاملہ نامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔ ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آسکتے ہیں کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کی ہنگ نہیں بلکہ اس نبوت کی چمک اللہ اس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے ۔ ور الوصیت صفحه ۱۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۱)) باوجود اس ۴۲ کے یہ خوب یاد رکھنا چاہئے کہ نبوت تشریعی کادروازه بعد آنحضرت ال کے بالکل مسدود ہے۔ اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطل کرے بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔ الوصیت ماده ها شنید و حانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۱) " اور پھر ایک اور نادانی یہ ہے کہ جاہل لوگوں کو بھڑکانے کے لئے کہتے ہیں کہ اس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ یہ ان کا سراسر افتراء ہے۔ بلکہ جس نبوت ۴۳، کا دعوی کرنا قرآن شریف کی رو سے منع معلوم ہوتا ہے ایسا کوئی دعوی نہیں کیا گیا۔ صرف یہ دعوی ہے کہ ایک پہلو سے میں امتی ہوں۔ اور ایک پہلو سے میں آنحضرت ا کے فیض نبوت کی وجہ سے نبی ہوں ۴۴۔ اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ سے بکثرت شرف مکالمہ و مخاطبہ پاتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجد د صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے ۔ لیکن ۲۵۔ جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں آتا ہے۔ ) وہ نبی کہلاتا۔ (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۶) وَلَيْسَ مُرَادُهُ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا كَثرَةَ مُكَالَمَةِ اللَّهِ وَكَثْرَةَ أَنْبَاءِ مِنَ اللَّهِ وَكَثَرَةً مَا يُوحَى وَ يَقُولُ ، مَا نَعْنِي مِنَ النَّبُوَّةِ مَا يُعْنَى فِي الصُّحُفِ الْأُولَى بَلْ هِيَ دَرَجَةً لَا