انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 428

انوار العلوم جلد ؟ کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے ۔ ۴۲۸ حقيقة النبوة (حصہ اول) لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے بعض اوقات خدائے تعالی کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں اور وہ حقیقت پر محمول نہیں ہوتے۔ سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اور طرف کھینچ کرنے گئے ہیں۔ آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کی رو سے ہے جو صوفیاء کرام اء کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا ۔ انجام آتھم خزائن جلدا اصفحه ۲۶ تا ۲۸ حاشیه ) T روحانی یہ الفاظ بطور استعارہ ہیں جیسا کہ حدیث میں بھی مسیح موعود کے لئے نبی کا لفظ آیا ہے ظاہر ہے کہ جس کو خدا بھیجتا ہے وہ اس کا فرستادہ ہی ہوتا ہے اور فرستادہ کو عربی میں رسول کہتے ہیں اور جو غیب کی خبر خدا سے پاکر دیوے اس کو عربی میں نبی کہتے ہیں۔ اسلامی اصطلاح کے معنی الگ ہیں۔ اس جگہ محض لغوی ۳۷ معنی مراد ہیں۔ ان سب مقامات کا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ریویو لکھا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ہیں برس سے تمام پنجاب و ہندوستان کے علماء ان الہامات کو برا نہین احمدیہ میں پڑھتے ہیں اور سب نے قبول کیا آج تک کسی نے اعتراض نہیں کیا بجز دو تین لدھیانہ کے ناسمجھ مولوی محمد اور عبد العزیز کے "۔ اربعین نمبر ۲ صفحه ۲۴ حاشیه روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۳۶۶) ۱۹۰۱ء کے بعد کے حوالہ جات جو حضرت مسیح موعود کی نبوت کے خلاف پیش کئے جاتے ہیں إِنَّا مُسْلِمُونَ نُؤْمِنُ بِكِتَبِ اللَّهِ الْفُرْقَانِ وَنُؤْمِنُ بِأَنَّ سَيِّدَنَا مُحَمَّدًا نَبِهَهُ وَرَسُولَهُ وَإِنَّهُ جَاءَ بِخَيْرِ الْأَدْيَانِ وَنُؤْمِنُ بِأَنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ إِلَّا الَّذِي رُنِي مِنْ فَيْضِهِ وَأَظْهَرَةَ وَعُدُهُ ٣٨ ۔ وَلِلَّهِ مُكَالَمَاتٌ وَ مُخَاطَبَاتٌ مَعَ - أَوْلِيَائِهِ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ وَإِنَّهُمْ يُعْطَوْنَ صِبْغَةَ الْأَنْبِيَاءِ وَلَيْسُوا بِنَبِيِّينَ فِي الْحَقِيقَةِ فَإِنَّ الْقُرْآنَ اكْمَلَ وَطَرَ الشَّرِيعَةِ وَلَا يُعْطَوْنَ إِلَّا فَهُمَ الْقُرْآنِ وَلَا يَزِيدُونَ عَلَيْهِ وَلَا يَنْقُصُونَ مِنْهُ وَ مَنْ زَادَ أَوْ نَقَصَ فأُولَئِكَ مِنَ الشَّيْطِيْنِ الْفَجَرَةِ وَنَعْنِي بِخَتُمِ النُّبُوَّةِ خَتَمَ كَمَا لَا تِهَا عَلَى نَبِيِّنَا الَّذِي