انوارالعلوم (جلد 2) — Page 423
انوار العلوم جلد ۲ ۴۲۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) روشنی میں سے ایک ہلکا سایہ ہے۔ سو وہ لعنتی ہے۔ اور خدا کی لعنت اس پر اور اس کے انصار پر اور اس کی پیروی کرنے والوں پر اور اس کے مددگاروں پر " صفحہ پر کتاب الوصیت سے : ९९ الوصیت صفحہ ۱۳، ۱۴ اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے۔ جو پہلے ملتا تھا۔ مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ نبوت کامله تامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔ ہے۔ ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس میں اس پر صادق آسکتے ہیں ۔۔۔۔ پس اس طرح پر بعض ۲۳ افراد نے باوجو د امتی ہونے کے نبی کا خطاب پایا " (روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۱-۳۱۲) ان حوالہ جات کے ساتھ ہی میں کچھ اور ایسی ہی عبارتیں جن سے نبوت کے خلاف استدلال کیا جاتا ہے ۔ نقل کر دیتا ہوں تاکہ سب کا جواب ایک ساتھ ہو جائے۔ اور وہ حسب ذیل ہیں :- ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالہ جات جو حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کے خلاف پیش کئے جاتے ہیں اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر (دہلی) کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ۔ ملائک کا منکر بهشت دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجود جبرائیل اور اور لیلة القدر اور معجزات اور معراج نبوی سے بکلی منکر ہے لہذا میں اظہار اللحق عام و خاص اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گذارش کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے میں نہ نبوت کا مدعی ہوں۔ اور نہ منجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر ۔ بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہلسنت جماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں۔ اور سید نا و مولانا حضرت محمد مصطفی ا ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں میرا یقین ہے کہ