انوارالعلوم (جلد 2) — Page 421
انوار العلوم جلد ۲ ۴۲۱ حقيقة النبوة (حصہ اول) منذرات کے جو امور غیبیہ سے ہوتے ہیں۔ یا قرآنی لطائف اور علوم لدنیہ کے اور وہ نبوت جو تامہ ہے کاملہ ہے۔ اور جس میں وحی کے سب قسم کے کمالات جمع ہوتے ہیں۔ ہم اس کے منقطع ہونے پر ایمان لاتے ہیں صفحہ پر کتاب چشمہ معرفت سے ” ہم خدا کے ان کلمات کو جو نبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں۔ اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں۔ یعنی اس قدر کہ اس کے زمانہ میں اس کی کوئی نظیر نہ ہو۔ اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں کیونکہ نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے ۔ مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الہیہ کے قائل ہیں لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے۔ (روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۸۹ - چشمه معرفت صفحه صفحه ۱۰۱۸۰ (۱۸۱- قرآن شریف مکالمہ اللہ کے سلسلہ کو بند نہیں کرتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبْدِ، یعنی خدا جس پر چاہتا ہے اپنا کلام نازل کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا یعنی مؤمنوں کے لئے مبشر الهام باقی رہ گئے ہیں گو شریعت ختم ہو گئی ہے کیونکہ عمر دنیا ختم ہونے کو ہے پس خدا کا کلام بشارتوں کے رنگ میں قیامت تک باقی ہے ۔ (روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۸۸ - چشمه معرفت منشا حاشیه ) (۳۴۰ ( تمام سے نبوتیں اس پر ختم ہیں ۔۔۔ مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے۔ (روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ اور خدا کا پیار یہ ہے کہ ۔۔۔ اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے۔۔۔ یہ اس لئے کہ تا اسلام ایسے لوگوں کے وجود سے تازہ رہے ۔۔۔ نبوت ھدا اور رسالت کا لفظ خداتعالی نے اپنی وجی میں میری نسبت صدہا مرتبہ استعمال کیا ہے ۔ مگر اس لفظ سے صرف وہ مکالمات و مخاطبات اللہ مراد ہیں جو بکثرت ہیں اور غیب پر مشتمل ہیں " (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۴۱۰۳۴۰) مولوی صاحب نے اس قدر حوالہ دیا ہے اس سے آگے کی عبارت ترک کر دی ہے۔ لیکن ہم وہ ذیل میں درج کر دیتے ہیں۔ ۳۲۵۰ اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ ہر ایک ٹینس اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کر سکتا ہے۔ لیکل أن يصطلح ال مو خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے ه چشمه معرفت صفحه ۳۲۴