انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 417

انوار العلوم جلد ۲ نہیں پائی جاتی۔ ۴۱۷ حقيقة النبوة (حصہ اول) اب میں نبوت کی ایک جامع مانع تعریف کر چکا ہوں جس تعریف کی بناء پر کسی نبی کی نبوت سے انکار نہیں کرنا پڑتا اور سب نبی اس تعریف میں جمع ہو جاتے ہیں اسی طرح یہ تعریف ایسی ہے کہ کوئی غیر ہی اس تعریف کے ہوتے ہوئے نبیوں کے گروہ میں ناجائز طور سے شریک نہیں ہو سکتا۔ پس یہ تعریف جامع اور مانع ہے اور جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں خدائے تعالیٰ نے قرآن کریم نے کل نبیوں نے اسلام نے حضرت مسیح موعود نے اور لغت نے نبی کی یہی تعریف کی ہے اور جس پر یہ تعریف صادق آئے اس کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں اور جو اس تعریف کے صادق آنے کے باوجود پھر بھی ایک شخص کی نبوت کا انکار کرتا ہے وہ نادانی کے انتہائی نقطہ کو پہنچا ہوا ہے۔ میں اس جگہ ایک اور شبہ کا ازالہ کر دینا بھی ضروری خیال کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جو کچھ تم نے لکھا ہے اس سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ نبی کے لئے وہ شرائط ہیں جو تم نے اوپر بیان کیں لیکن یہ کیونکر ثابت ہو کہ ان کے علاوہ اور کوئی شرط نہیں۔ ممکن ہے کہ شریعت کالا نا یا بلا واسطہ نبوت کا ملنا بھی نبی ہونے کے لئے شرط ہو ۔ لیکن یہ شبہ بھی پہلے شبہ کی طرح بے بنیاد ہو گا اس لئے کہ جو تعریف نبی کی میں اوپر کر چکا ہوں اس سے ثابت ہے کہ امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانا غیر نبی میں پایا ہی نہیں جاتا پس جب ایک شخص کی نسبت ثابت ہو جائے کہ اسے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی ہے اطلاع دی گئی ہے تو وہ بہر حال نبی ہو گا کیونکہ یہ بات مطابق ارشاد الی غیر نبی میں پائی ہی نہیں جاتی جس سے معلوم معلوم ؟ ہوا کہ یہ شرط جہاں پائی جائے (مع اس تفصیل کے جو اس کے ساتھ مذکور ہوئی وہاں نبوت ضرور پائی جائے گی۔ پس جس شخص کو اظہار علی الغیب کا رتبہ ملے اسے کسی اور بناء پر نبیوں کی جماعت سے خارج نہیں کر سکتے۔ دوسرے یہ کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو " (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۶) پھر فرماتے ہیں نبی کا شارع ہونا شرط نہیں یہ صرف موہت ہے جس سے امور غیبیہ کھلتے ہیں " ایک غلطی کا ازالہ) اسی طرح شہادت القرآن صفحہ ۴۴ میں فرماتے ہیں ” بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی بلکہ ان انبیاء