انوارالعلوم (جلد 2) — Page 416
انوار العلوم جلد ۲ ۱۶ حقيقة النبوة (حصہ اول) نہیں آگئی اسے اس تعریف کے قبول کرنے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ شاید اس جگہ کوئی شخص کہہ دے کہ بیشک نبی کی یہی تعریف ہے جو تم نے اوپر بیان کی ہے لیکن یہ آج کل کی تعریف ہے قرآن کریم سے پہلے غیبوں کی یہ تعریف نہیں بلکہ ان کے نبی کہلانے کی اور وجہ ہے جو اس کے خلاف ہے تو اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ دین کو کھیل اور تما شا مت بناؤ۔ اگر پہلے نبیوں کو کسی اور وجہ سے نبی کہتے تھے تو ہمارے سامنے وہ وجہ : پیش کرو اور قرآن کریم سے ثابت کرد که مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے ان کو نبی کہا جاتا تھا اگر تم ایسا نہ کر سکو اور یقینا نہیں کر سکتے تو خدائے تعالی سے ڈرو کہ جو شخص بلا دلیل کسی دینی بات پر اڑ جاتا ہے اور اپنے فعل سے دین میں رخنہ ڈالتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت کے نیچے ہے اور اسے چاہئے کہ جلد تو بہ کرے۔ دوسرا سے سراجواب اس شبہ کا یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ مذکورہ بالا شرائط کے علاوہ کسی اور وجہ پہلے غیوں کا نبی کہلانا قرآن کریم اور احادیث سے ثابت نہیں پس کسی کا حق نہیں کہ ایسا دعوی کرے بلکہ حضرت مسیح موعود نے خود ہی اس امر کا فیصلہ کر دیا ہے اور فرماتے ہیں " منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے" (ایک غلطی کا ازالہ) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ا اور آپ سے پہلے جس قدر انبیاء گذرے ہیں ان کے نبی کہلانے کی بھی یہی وجہ تھی کہ کثرت سے امور غیبیہ پر ان کو اطلاع دی جاتی تھی پس جس شخص میں یہ بات پائی جائے گی وہ بلحاظ نبوت کے ویسا ہی نہیں ہو گا جیسے پہلے بزرگ تھے گو مراتب کے لحاظ سے یا بعض خصوصیتوں کے لحاظ سے وہ اور قسم کا نبی ہو مثلاً ہر آدمی آدمی تو ہے لیکن ایک پڑھا ہوا آدمی ایک خصوصیت رکھتا ہے جو سب دنیا کے آدمی نہیں رکھتے اور گو آدمیت کے لحاظ سے وہ شخص جو پڑھا ہوا ہے اور وہ جو نہیں پڑھا ہوا ایک سے ہیں کیونکہ پڑھنا آدمی ہونے کی شرط نہیں ہاں پڑھے ہوئے آدمی کو ایک فضیلت ہے جو ان پڑھ کو حاصل نہیں یا ایک خصوصیت ہے جس میں ان پڑھ اس کا شریک نہیں لیکن آدمیت کے لحاظ سے دونوں ایک سے آدمی ہیں۔ بعینہ اسی طرح وہ شخص جس میں آج وہ شرائط نبوت جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں پائی جائیں وہ نبی کہلائے گا اور نبی ہو گا اور نبوت کے لحاظ سے ایسا ہی نبی ہو گا جیسے کہ پہلے نبی تھے کیونکہ پہلے نبی بھی اسی شرط یا شرائط کے پائے جانے کی وجہ سے نبی کہلاتے تھے گو ممکن ہے کہ بعض پہلے نبی اس شخص پر کوئی فضیلت رکھتے ہوں یا کوئی ایسی خصوصیت رکھتے ہوں جو اس میں