انوارالعلوم (جلد 2) — Page 389
انوار العلوم جلد ۲ ۳۸۹ حقيقة النبوة ( حصہ اول) ہے جیسے "غیر نبی کو نبی پر ہوتی ہے اس خلاصہ سے بھی خوب پتہ چل سکتا ہے کہ کس طرز پر میری عبارات کو ڈھالا گیا ہے اس بحث پر میں مفصل بحث پہلے کر چکا ہوں ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ خلاصہ کسی دیانت سے کیا گیا ہے۔ جناب مولوی صاحب ایک اور اعتراض بھی فرماتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں تئیس سال کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب وحی یکساں ہے اس میں نسخ کوئی نہیں ہو مگر میاں صاحب نے اس کے خلاف لکھا ہے لیکن میں پہلے جواب دے آیا ہوں کہ یہ اعتراض جناب مولوی صاحب کے قلت تدبر کا نتیجہ ہے نہ میں نے یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے پہلے اور قسم کا نبی بنایا اور بعد میں اور قسم کا۔ اور نہ حضرت مسیح موعود نے ۔ بلکہ آپ نے اس اختلاف کو براہین والا اختلاف قرار دیا ہے۔ یعنی مسیح کی حیات کے متعلق۔ اور وہ واقعہ اس طرح نہیں ہوا کہ پہلے تو اللہ تعالیٰ بار بار الهام کرتا رہا کہ مسیح زندہ ہے اور بعد میں فرمایا کہ نہیں وہ وفات یافتوں میں شامل ہے اس طرح یہ اختلاف اس طرح نہیں ہوا کہ پہلے تو آپ کو الہام ہو تا رہا کہ آپ جزوی نبی ہیں لیکن بعد ؟ بعد میں الہام ہوا کہ آپ نبی ہیں بلکہ ابتدائے ایام سے ایک ہی لفظ نبی اور رسول سے آپ کو پکارا گیا۔ ہاں پہلے آپ اپنے ان ، آپ اپنے اجتہاد سے اس کو جزوی قرار دیتے رہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اپنی فضیلت بعض نبیوں پر جزوی سمجھتے تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے مزید علم بخشا تو پھر جزوی کی شرط اڑا دی ج اڑا دی جس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے اپنی فضیلت کو تمام شان میں تسلیم کیا اور جزئی فضیلت کا عقیدہ ترک کر دیا ۔ جناب مولوی صاحب نے اپنے رسالہ کے پندرھویں صفحہ پر پھر کچھ سوالات کئے ہیں جن میں سے بعض چونکہ اس زیر بحث مسئلہ کے متعلق ہیں اس لئے ان کا جواب یہیں دیا جاتا ہے ۔ ۱۰ - اول یه که ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء کے بعد آپ صرف ساڑھے پانچ برس زندہ رہے کیا ایک مخالف یہ نہیں کہہ سکتا کہ نعوذ باللہ آپ کو تقول والی آیت کے ماتحت پکڑے گئے کیونکہ آپ خود ہی اس سے پیشتر نبوت تامہ کاملہ کے دعوی کو افتراء قرار دے چکے تھے اور ایسی نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے مسدود ہونے کا اعلان کر چکے تھے۔ ۲- دو سرا سوال یہ کہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء تک آپ کے دعوی مسیحیت پر تیرہ سال سے زیادہ گزر چکے تھے جب تیرہ سال تک مسیح موعود ایک مجدد اور محدث ہو سکتا ہے تو معلوم ہوا کہ نبوت تامہ کی ضرورت مسیح موعود ہونے کے لئے نہیں ہے بلکہ ایک جزوی نبی اور ایک مجدد بھی مسیح