انوارالعلوم (جلد 2) — Page 387
انوار العلوم جلد ؟ ۳۸۷ حقيقة النبوة (حصہ اول) اپنے مطلب کی بات نکل سکے تو کیا ایسا تو نہیں کہ بجائے بے احتیاطی کے جان بوجھ کر ایسا کر دیا گیا ہے لیکن میں ایسا کہنے کی جرات نہیں کرتا میرا خیال ہے کہ ضرور غلطی سے ہی ایسا ہو گیا ہے چونکہ بعض لوگ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ اس تغیر عبارت سے کیا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اس لئے میں یہاں ذرا زیادہ کھول دیتا ہوں تاہر ایک شخص سمجھ سکے۔ بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے تریاق القلوب میں اپنا یہ مذہب بیان فرمایا ہے کہ غیر نبی کو نبی پر جزئی فضیلت ہو سکتی ہے نہ کہ پورے طور پر ۔ چنانچہ آپ اپنی فضیلت کا ذکر فرما کر لکھتے ہیں کہ ” اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے اور تمام اہل علم اور معرفت اس فضیلت کے قائل ہیں"۔ صفحہ ۱۵۷ ۱۵۸ پس اپنی فضیلت کے ذکر کے بعد اس بات کا ازالہ کرنا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ مسیح پر اپنے آپ کو افضل قرار دیا ہے بلکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے ثابت کرتا ہے کہ آپ کا مذہب یہی تھا کہ ایک غیر نبی کو نبی پر فضیلت نہیں ہو سکتی مگر جز کی فضیلت ہو سکتی ہے اور عرف عام میں بھی اور قواعد زبان میں بھی ایک شخص دوسرے سے افضل تب قرار پاتا ہے جبکہ وہ اکثر باتوں میں یا کل باتوں میں افضل ہو اور ایک بات میں افضل ہونا افضل ثابت نہیں کر سکتا اس لئے حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ خیال نہ کرنا کہ میں نے اپنے نفس کو مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے حضرت صاحب کے مذکورہ بالا حوالہ سے یہ نتائج نکلتے ہیں کہ : ا۔ آپ مسیح سے افضل نہیں۔ ۲- اس بات کا اظہار اس لئے فرمایا کہ تا کوئی اس بات پر تعجب نہ کرے کہ آپ جو نبی نہیں آپ کو ایک نبی پر فضیلت کیونکر مل گئی۔ ۳۔ یہ کہ آپ نے جس فضیلت کا اظہار فرمایا ہے اس سے مراد صرف جزئی فضیلت ہے نہ یہ کہ آپ مسیح سے افضل ہیں۔ جزئی فضیلت غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں کہ میں مسیح سے افضل ہوں۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے بار بار نبی کا خطاب دیا اس لئے میں پہلے عقیدہ پر قائم نہ رہا۔ ان دونوں حوالوں سے یہ معلوم ہوا کہ تریاق القلوب کے وقت آپ اپنے آپ کو مسیح سے اس لئے افضل نہیں جانتے تھے کہ آپ اپنے آپ کو نبی خیال نہیں کرتے تھے اور نبی سے غیر نبی