انوارالعلوم (جلد 2) — Page 386
لانوار العلوم جلد ۲ ۳۸۶ حقيقة النبوة (حصہ اول) نے اختلاف کو تسلیم کیا پھر اس کی وجہ بتائی اور اپنی افضلیت کے مسئلہ کو اصل اور درست قرار دیا لیکن اس جگہ یہ بحث نہیں چھیڑی کہ میں نے کیوں اس مضمون کو ناسخ قرار دیا ہے جو پہلے کا چھپا ہوا ہے اور چونکہ میں جانتا تھا کہ تریاق القلوب در حقیقت پہلے کی کتاب ہے اس لئے میں نے اپنے رسالہ میں بارہا ایک غلطی کے ازالہ والے اشتہار سے حوالے پیش کئے ہیں جو ۱۹۰۱ء کا ہے کیونکہ میں جانتا تھا کہ در حقیقت یہ اشتہار تریاق القلوب سے بعد کا ہے رب سے بعد کا ہے جیسا کہ میں اوپر ثابت بھی کر آیا ہوں۔ مجھے اس جگہ ایک بات کے بیان کرنے پر بہت افسوس ہے لیکن میں مجبور ہوں بناوٹی حوالہ کیونکہ میرا مضمون نا مکمل رہ جاتا ہے اگر میں اس پر کچھ نہ t اس پر کچھ نہ لکھوں۔ اور وہ یہ ہے کہ جناب مولوی صاحب نے اپنے رسالہ میں ایک غلط حوالہ دیا ہے اور ایک خطرناک تحریف کی ہے اگر آپ حضرت صاحب کی عبارت کو اپنے الفاظ میں لکھتے اور پھر کوئی خاص بات ترک کر جاتے تو گو وہ بھی ایک حد تک قابل اعتراض تھی تھی لیکن ایک عبارت کو ایسے کو ایسے طور سے نقل کرنا جس سے معلوم ہو کہ وہ حضرت صاحب کے اصل الفاظ میں ہے اور در حقیقت اس کے الفاظ وہ نہ ہوں جو حضرت مسیح موعود کی عبارت کے ہیں ایک ایسی غلطی ہے جس کا نتیجہ نہایت سخت ہو سکتا ہے آپ لکھتے ہیں دوسری طرف تریاق القلوب کو دیکھتے ہیں تو اس کی وہ تحریر جس میں لکھا ہے کہ "غیر نبی کو نبی پر فضیلت ہو سکتی ہے جس کے تمام اہل علم اور اہل معرفت قائل ہیں “ نشان نمبر ۷۵ کے اندر آئی ہے ۔ نشان " " ہمیشہ حوالہ کے لئے لکھا جاتا ہے لیکن جب ہم دیکھتے ہیں تو یہ عبارت تریاق القلوب میں نہیں بلکہ تریاق القلوب کی عبارت یہ ہے " یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے اور تمام اہل علم اور معرفت اس فضیلت کے قائل ہیں " اور جو کچھ جناب مولوی صاحب نے لکھا ہے وہ درست نہیں اور وہ الفاظ نہیں جو حضرت صاحب کے ہیں حالانکہ اس عبارت کو آپ کے رسالہ میں علامت (" (") کے درمیان لکھا گیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ اصل عبارت ہے اگر کتاب عربی میں ہوتی اور آپ اس کا ترجمہ فرماتے تب بھی ایک بات تھی کیونکہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ ترجمہ ہے ہماری سمجھ میں اس طرح آیا ہم نے اس طرح کر دیا لیکن یہ بات بھی نہیں کتاب اردو زبان میں ہے پھر اگر الفاظ بدل جاتے اور مطلب میں فرق نہ آتا تب بھی ایک معقول عذر تھا لیکن مطلب ایسی طرز سے غلط ہو گیا ہے جس کا فائدہ خود ان کو ہی حاصل ہو سکتا ہے جس سے خواہ مخواہ شک پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسے رنگ میں لفظ بدل دیئے گئے ہیں جن سے