انوارالعلوم (جلد 2) — Page 381
انوار العلوم جلد ۲ تھی۔ ۳۸۱ حقيقة النبوة ( حصہ اول) اس جگہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اللہ تعالٰی نے اگر حضرت مسیح موعود کو جزوی نبی اور جزوی رسول کہہ کر نہیں پکارا۔ بلکہ رسول اور نبی کہا ہے تو یہ بات کہاں سے نکل آئی کہ آپ حقیقی نبی یعنی شریعت لانے والے نبی نہیں اور یہ بات کہاں سے نکلی کہ آپ مستقل نبی یعنی بلا واسطہ نبوت پانے والے نہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ نبوت کے لئے ہرگز یہ شرط نہیں کہ اس میں شریعت ساتھ ہو یا یہ کہ بلا واسطہ حاصل ہو اس لئے اللہ تعالی کے کلام میں نبی کے ساتھ حقیقی اور مستقل کا لفظ نہیں ہوتا۔ اور تم یہ لفظ نہ قرآن کریم میں کسی نبی کی نبوت کے ساتھ دیکھو گے اور نہ دوسرے انبیاء کی وحیوں میں اور نہ احادیث میں۔ کیونکہ یہ ایسی خصوصیات ہیں جن کا علم واقعات سے ہوتا ہے اگر ایک شخص کو خدا تعالیٰ نبی کہہ کر پکارتا ہے۔ رسول کہہ کر پکارتا ہے پھر اسے مامور فرماتا ہے۔ اصلاح مفاسد کا کام اس سے لیتا ہے تو وہ نبی ہو جاتا ہے ۔ اب اگر اس پر ایسی وحی نازل ہو جائے جس میں احکام شریعت ہوں تو خود پتہ لگ جائے گا کہ یہ صاحب شریعت نبی ہے اور ایسے نبی کا نام حضرت مسیح موعود نے حقیقی نبی رکھا ہے ۔ اسی طرح اگر اس نبی کو بلا واسطہ نبوت ملی ہے اور کسی کی اتباع سے نہیں ملی تو صاف پتہ لگ جائے گا کہ یہ نبی مستقل ہے۔ اور اگر نہ شریعت ملے اور نہ بلا اتباع اَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ اے نبوت ملے تو پتہ لگے گا کہ اس نبی کے لفظ سے نبی امتی مراد ہے چنانچہ حضرت صاحب کے الہامات میں اشارہ ان دونوں باتوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔ آپ کے صاحب شریعت نبی نہ ہونے کے متعلق علاوہ اس بین واقعہ کے کہ آپ کوئی شریعت نہیں لائے یہ الہام دلالت کرتا ہے کہ الْخَيْرُ كُلَّهُ فِي الْقُرْآنِ پس جبکہ سب خیر قرآن کریم میں ہے تو ثابت ہوا کہ اس وقت کوئی نئی شریعت نہیں ہو گی بلکہ قرآن کریم ہی پر عمل کرنا ہر ایک کا فرض ہو گا اسی طرح حضرت مسیح موعود کا یہ الهام که كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَمَ وَ تَعَلَّمَ یعنی سب کی سب برکات آنحضرت ا سے ہیں پس بابرکت ہے استاد بھی اور شاگرد بھی۔ اس الہام میں اپنے اصل مضمون کی طرف اشارہ کے علاوہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کو جو کچھ ملا ہے آنحضرت اللہ کی شاگردی سے ملا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بلا واسطہ نبوت پانے والے نہ تھے کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کو آنحضرت ا کا شاگرد قرار دیا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ آپ نے جو کچھ سیکھا۔ انہی سے سیکھا۔ پس آپ کی نبوت بالواسطہ نبوت تھی جس کے پانے والے کا نام حضرت صاحب نے امتی نبی رکھا