انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 380

انوار العلوم جلد ۲ ۳۸۰ حقيقة النبوة (حصہ اول) امتی بھی) اور پھر اس لئے وہ الہامات جو مسیح پر میری فضیلت کا اظہار کرتے تھے۔ ان میں جزئی فضیلت مراد نہ تھی بلکہ اس کی تمام شان سے مجھے افضل قرار دیا گیا تھا۔ پس تریاق القلوب کی تحریر جیسا کے بعد آپ کے اجتہاد اور عقیدہ کو بدلا گیا نہ کہ امر واقعہ اور آپ کے درجہ کو۔ اور جس دن سے آپ مسیح موعود ہوئے ۔ اسی دن سے آپ نبی تھے اور خدا تعالی نے آپ کو نبی قرار دیا تھا لیکن : کہ آپ خود فرماتے ہیں حیات مسیح کے مسئلہ کی طرح اس لفظ کی تاویل کرتے رہے حتی کہ متواتر وحی سے آپ کو پہلا عقیدہ بدلنا پڑا۔ نتیجہ روم کی تردید بھی نتیجہ اول کی تردید سے خود بخود ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس میں آپ فرماتے ہیں کہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ میاں صاحب کو کوئی ایسی وحی معلوم ہے کہ اب آپ جزوی نبی نہیں رہے۔ اور میں یہ بتا آیا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے کسی پہلے حکم کو منسوخ نہیں کیا۔ بلکہ حضرت مسیح موعود کا درجہ نبوت شروع سے ایک ہی تھا۔ پس ایسی وحی کی کوئی ضرورت نہیں۔ خدا تعالیٰ نے کب کسی الہام میں حضرت صاحب سے فرمایا ہے کہ آپ جزوی نبی ہیں۔ اگر میرا فرض ہے کہ میں یہ دکھاؤں کہ حضرت مسیح موعود جزوی نبی سے نبی کب بنائے گئے۔ اور یہ بھی خود حضرت مسیح موعود کی اس تحریر کے موجود ہوتے ہوئے کہ بعد میں اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی نے آپ کو اس عقیدہ سے جو پہلے تھے ہٹا دیا تو میں سوال کرتا ہوں اور میرا حق ہے کہ میں آپ سے سوال کروں کہ آپ وہ وحی شائع کریں جس میں حضرت صاحب کو خداتعالیٰ نے بتایا ہو کہ آپ جزوی نبی ہیں۔ اگر آپ اس کے لئے مختلف تاویلات کی طرف جھک جائیں تو سنیں کہ مومن کی شان سے بعید ہے کہ وہ دوسروں سے ایسا مطالبہ کرے جسے وہ خود پورا نہیں کر سکتا۔ پہلے آپ حضرت مسیح موعود کا وہ الہام پیش کریں جس میں آپ کو مثلا یوں کہا گیا ہو کہ دنیا میں ایک جزوی نبی آیا ۔ پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا الخ۔ الج پہلے آپ ایسی وحی پیش کریں پھر ہمارا فرض ہو گا کہ اس کی منسوخ کرنے والی وحی آپ کے سامنے پیش کریں۔ جبکہ آپ اپنے دعوے کو اس معیار پر ثابت نہیں کر سکتے جسے آپ ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں تو ہم سے یہ مطالبہ کیوں کرتے ہیں اور ہم سے وہ وحی کیوں پوچھتے ہیں جس میں جزوی نبوت کو منسوخ کیا گیا۔ جزوی نبوت کے دینے والا الہام ہی جب کوئی نہیں تو اس کے منسوخ کرنے کا الہام کیوں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے تو ابتداء سے آپ کو نبی اور رسول کا خطاب دیا نہ کہ جزوی نبی اور جزوی رسول کا۔ جب خدا تعالیٰ نے ابتداء سے ایسا لفظ ہی کوئی استعمال نہیں فرمایا ۔ تو پھر اس بات کو منسوخ کرنے کے کیا معنی ہوئے جو پہلے کی ہی نہ