انوارالعلوم (جلد 2) — Page 365
انوار العلوم جلد ۲ ۳۶۵ حقيقة النبوة (حصہ اول) موعود نے تریاق کے حوالہ کو منسوخ قرار دیا ہے تو اب جو اعتراض پڑے گا مسیح موعود پر پڑے گانہ مجھ پر لیکن میں مضمون کو مکمل کرنے کے لئے اس جگہ فرض کر لیتا ہوں کہ ایک مخالف ہم سے پوچھتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو ریویو کے مضمون کو جو پہلا ہے تریاق القلوب کے مضمون کا جو بعد کا ہے ناسخ قرار دیا ہے تو اس سے آپ کا کیا مطلب ہے اور ایسے شخص کو جواب دیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود نے جو کچھ لکھا درست لکھا اور اس میں ہرگز کوئی خلاف عقل بات نہیں بلکہ واقعہ میں ریویو کا مضمون تریاق القلوب کا ناسخ ہے اور اس سے پہلا نہیں بلکہ بعد کا ہے۔ F اس میں کوئی شک نہیں کہ تریاق القلوب اکتوبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوئی اور ریویوجون ۱۹۰۲ء کو بلکہ دافع البلاء جس سے ریویو میں مضمون لیا گیا ہے وہ تو اپریل ۱۹۰۲ء کو شائع ہوئی اور خود میں نے اپنے رسالہ القول الفصل میں میں تاریخ اشاعت کے اشاعت کے لحاظ سے ۱۹۰۲ء تک ہی تریاق القلوب کی تیاری لکھی ہے لیکن چونکہ اس وقت اس امر کو بالتفصیل لکھنے کی گنجائش نہ تھی اس لئے اس رسالہ میں وہی تاریخ لکھ دی گئی جو تریاق القلوب پر لکھی ہوئی تھی اور اگر میں ایسا نہ کرتا تو خوف تھا کہ بعض لوگ جھٹ مجھ پر جھوٹ کا الزام لگا دیتے لیکن اب میں بتاتا ہوں کہ تریاق القلوب اصل میں پہلے کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور ریویو بعد کا مضمون جو دافع البلاء سے لیا گیا ہے اس کے بعد کا کا بلکہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ بعد کا ہے اور اس کے لئے میرے پاس خدائے تعالی کے فضل سے یقینی ثبوت ہیں بشرطیکہ کوئی شخص ان پر غور کرے اور ضد اور ہٹ سے کام نہ لے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ تریاق القلوب ۱۸۹۹ء سے لکھی جانی شروع ہوئی اور جنوری ۱۹۰۰ء تک بالکل تیار ہو چکی تھی لیکن چونکہ ان دنوں میں ایک وفد نصیبین جانے والا تھا اس لئے حضرت مسیح موعود نے ایک عربی رسالہ لکھنا شروع کر دیا اور اس کی اشاعت رک گئی ۱۹۰۲ء میں جبکہ کتب خانہ کا چارج حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کے ہاتھ میں تھا آپ نے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول سے عرض کی کہ بعض کتب بالکل تیار ہیں لیکن اس وقت تک شائع نہیں ہو ئیں آپ حضرت مسیح موعود سے عرض کریں کہ ان کو شائع کرنے کی اجازت فرمادیں چنانچہ آپ نے حضرت مسیح موعود سے ذکر کیا اور حضور نے اجازت دے دی تریاق القلوب ساری چھپ چکی تھی۔ اور صرف ایک صفحہ کے قریب مضمون حضرت اقدس کے ہاتھ کا لکھا ہوا کاتب کے پاس بچا پڑا تھا اس کے ساتھ حضرت اقدس نے ایک صفحہ کے قریب مضمون اور بڑھا دیا اور کل دو صفحہ آخر میں لگا کر کتاب شائع کر دی گئی۔ یہ تو اصل واقعہ ہے جس سے غالبا جناب مولوی صاحب واقف ہوں گے اور امید ہے کہ حق