انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 351

انوار العلوم جلد روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۵-۳۰۶) ۳۵۱ حقيقة النبوة (حصہ اول) اس جگہ حضرت مسیح موعود نے نبی کے حقیقی معنوں کے رو سے اپنے آپ کو نبی کہا ہے پس جو فتوئی مجھ پر لگاتے ہو وہ خود حضرت مسیح موعود پر لگے گا۔ اور اب تمہاری جو مرضی ہو کہو۔ کیونکہ جو کچھ بھی کہو گے اس میں میں اور حضرت مسیح موعود دونوں شریک ہوں گے اور اس سے زیادہ خوشی مجھے کیا ہو سکتی ہے کہ میں مسیح موعود کے کلام کے بیان کرنے پر رکھ دیا جاؤں اور مجھے برا بھلا کہا جاوے ۔ مگر خوب یاد رکھو کہ حضرت مسیح موعود پر فتوی لگانے والا الٰہی گرفت کے نیچے ہے اور یہ مقام سخت خطرہ کا مقام ہے۔ میرا قول حضرت مسیح موعود کے قول کے خلاف نہیں آپ نے حقیقی نبی کی ایک اصطلاح قرار دی ہے۔ اور اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ جو نئی شریعت لائے اور ان معنوں کے رو سے آپ نے حقیقی نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔ اور میں بھی ان معنوں کی رو سے آپ کے حقیقی نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔ ہاں آپ نے نبی کے حقیقی معنی یہ فرماتے ہیں کہ وہ کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پائے ۔ اور بتاؤ کہ جو شخص ان معنوں کے رو سے جو حقیقی معنی ہیں نبی ہو وہ حقیقی نبی ہو گا یا نہیں ؟۔ اگر کوئی شخص کہے کہ یہاں حضرت مسیح موعود نے یہ تو فرمایا ہے کہ نبی کے حقیقی معنی یہ ہیں اور یہ نہیں فرمایا کہ ایسا شخص حقیقی نہیں ہو گا تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ جو چیز حقیقی معنوں کے رو سے ایک نام حاصل کرے گی وہ حقیقی بھی ہو گی۔ اگر نبی کے حقیقی معنوں کے رو سے نبی کہلانے والا حقیقی نبی نہیں تو کیا جو شخص غیر حقیقی معنوں کے رو سے نبی کہلائے گا۔ لغت اسے حقیقی نبی کے گی۔ پس حضرت مسیح موعود کا نبی کے حقیقی معنی بتانا اور ان کے ماتحت اپنے نبی ہونے کا اقرار کرنا ثابت کرتا ہے کہ آپ نے اگر ایک اصطلاحی معنوں کے لحاظ سے حقیقی نبی ہونے سے انکار کیا ہے تو ایک عام معنوں کے لحاظ سے حقیقی نبی ہونے کا اقرار بھی کیا ہے اور اسی رنگ میں میں نے بھی لکھا ہے کہ اگر حقیقی نبی کے وہ اصطلاحی معنی نہ لیں جو حضرت مسیح موعود نے کئے ہیں بلکہ اسے بناوٹی یا نقلی کے مقابلہ پر رکھیں تو ان معنوں کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود حقیقی نبی ہیں۔ ہاں اصطلاحی معنوں کے لحاظ سے نہیں۔ اس امر کے زیادہ واضح کرنے کے لئے میں ایک مثال دیتا ہوں جس سے ہر ایک شخص آسانی سے اس مسئلہ کو سمجھ سکے گا۔ آنحضرت ا نے کلمہ کے معنی جملہ یا فقرہ کے کئے ہیں۔ اور عام استعمال میں یہی معنی آتے ہیں۔ لیکن نحویوں کی اصطلاح میں کلمہ ایک مفرد لفظ کو کہتے ہیں اور جب کبھی ایک نحوی کی کتاب میں کلمہ کا لفظ آئے گا تو اس سے مراد ایک لفظ ہوگا نہ نقرہ