انوارالعلوم (جلد 2) — Page 350
انوار العلوم جلد ؟ ۳۵۰ حقيقة النبوة (حصہ اول) ترک کرنا پڑے کیا تم نہیں دیکھتے کہ آج سے پہلے آریوں اور عیسائیوں نے اسلام پر اسی طرح حملے کئے تھے اور وہ قرآن کریم کے ایسے الفاظ کو لے کر جن کے اردو میں برے معنی ہوتے تھے۔ قرآن کریم پر حملہ کرتے تھے۔ مثلا وہ کہتے تھے کہ قرآن کریم میں خدا تعالی کی نسبت مکار کا لفظ آیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی نسبت آتا ہے کہ وَ اللهُ خَيْرُ الْعَاكِرِينَ لیکن ان نادانوں نے نہ جانا کہ اردو میں مکار کے اور معنی ہیں اور عربی میں اور اردو میں مکارا سے کہتے ہیں جو فریبی ہو اور عربی میں اسے جو تدبیر کرنے والا ہو۔ پس ان کے لئے کسی طرح جائز نہ تھا کہ وہ لفظ مکار کے وہ معنی لیتے جو قرآن کریم نے نہیں لئے۔ پس جبکہ میں نے خود لکھ دیا ہے کہ میں حضرت صاحب کو اس اصطلاح کے رو سے جو حضرت مسیح موعود نے قرار دی ہے حقیقی نبی نہیں مانتا یعنی کوئی نئی شریعت لانے والا نہیں جانتا۔ ہاں اگر اس لفظ کو اصطلاحی معنوں سے پھیر کر کسی اور معنوں میں لیا جائے تو اس صورت میں اگر وہ معنی حضرت صاحب پر چسپاں ہو سکیں تو میں آپ کو حقیقی نبی کہہ لوں گا تو کیوں مجھ پر یہ الزام دیا جاتا ہے کہ میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔ میں نے تو ایک شرط لگائی تھی اور کہا تھا کہ اگر یہ شرط پائی جائے تو پھر آپ کو حقیقی نبی کہا جا سکتا ہے جیسا کہ حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ اگر کفر کے معنی محبت آنحضرت اللہ ہے تو میں سخت کافر ہوں۔ پس باوجود صریح الفاظ کے میری نسبت یہ کہنا کہ میں حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی جانتا ہوں ایک ظلم عظیم ہے۔ رو سے خود ۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان اصطلاحی معنوں کے علاوہ ، علاوہ عام معنوں کے رو حضرت مسیح موعود نے بھی اپنے آپ کو حقیقی نبی کہا ہے ۔ چنانچہ مندرجہ ذیل حوالہ سے صاف ظاہر ہے: بعض یہ کہتے ہیں کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ صحیح بخاری اور مسلم میں لکھا ہے کہ آنے والا عیسی اس امت میں سے ہو گا۔ لیکن صحیح مسلم میں صریح لفظوں میں اس کا نام نبی اللہ رکھا ہے۔ پھر کیونکر ہم مان لیں کہ وہ اس امت میں سے ہو گا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام بد قسمتی دھوکا ہے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو ۔ اور شرف مکالمہ مکالمه مخاطبہ الہیہ الیہ سے مشرف ہو۔ ہو۔ شریعت کالانا نا اس اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت سول کا متبع نہ ہو۔ (دیکھو ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم