انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 340

انوار العلوم جلد ۲ ۳۴۰ اللہ تعالی کی مدد صرف صادقوں کے ساتھ ہے پھر تم کہو کہ یہ حرکت کیسی ہے میں نے عرض کی کہ قبل از وقت و تحقیق میں کچھ کہہ نہیں سکتا " را قم عبدالرحمن علی اللہ عنہ ۲۵ جنوری ۱۹۱۵ء اس عرصہ میں مولوی فضل الدین صاحب مختار عدالت کی مفصل شہادت بھی مجھے مل گئی ہے اسے بھی ذیل میں درج کر دیا جاتا ہے اور ان کے بیان کی تصدیق بھی جو میر صاحب نے کی ہے۔ " بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسوله الكريم بحضور حضرت خلیفة المسیح الموعود و المهدي الموعود عليه الصلوة والسلام - السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ خاکسار کو اس معاملہ میں جو کچھ معلوم ہے راست راست تحریر کر دیتا ہے اور منطوق لا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةُ میرا یہ بیان ہے جہاں تک کہ مجھ کو یاد ہے کہ ایام جلسہ دسمبر ۱۹۱۴ء میں جناب مولوی فاضل میر محمد اسحاق صاحب کی زبانی مجھ کو معلوم ہوا کہ مطیع اللہ خان بیان کرتے ہیں کہ صاحبزادہ صاحب کے ایک خط کی نقل میں لاہور میں پڑھ کر آیا ہوں جس میں صاحبزادہ صاحب نے لاٹ صاحب پنجاب سے استدعا کی ہے کہ کسی طرح ان کو خلیفہ المسلمین تسلیم کیا جاوے اور شاید یہ بھی انہوں نے ذکر کیا یا نہیں کہ لاٹ صاحب نے جواب دیا ہے کہ یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں میر صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ مطیع اللہ خان کو میں نے کہا تھا کہ یہ بات وہ لکھ دیں کہ لاہوریوں کے پاس میں نے ایسے خط و کتابت کی نقل دیکھی ہے لیکن اس نے انکار کیا ہے۔ میرے پاس میر صاحب نے یہ بات اس رنگ میں بیان کی تھی کہ لاہوریوں کے مفتریات کی یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے بعد ازاں مجھ کو شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور بٹالہ میں ملے انہوں نے ذکر کیا کہ میں خواجہ صاحب کے ملنے کیلئے لاہور گیا تھا مگر وہ پشاور گئے ہوئے نہیں اور باتوں باتوں میں مطیع اللہ خان کی روایت کی ان کی زبان سے بھی تصدیق ہوئی اور غالبا انہوں نے یہ کہا تھا کہ قسمیں کھا کھا کر میرے پاس یہ بات ایک شخص نے بیان کی ہے۔ اس کے علاوہ خلیفہ نور دین صاحب جموں والوں نے بھی مجھ سے بٹالہ میں بیان کیا تھا کہ میں (نور دین) نے بھی اس بات کا چرچا احمد یہ بلڈ نگ لاہور میں سنا تھا لیکن میں نے اس بات کو باور نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد میں نے جب ۱۰ جنوری ۱۵ء کا پیغام صلح پڑھا اور اس میں ایک مراسلہ میں یہ لکھا ہوا دیکھا پھر ایک باب ؟ باب میں خلافت کا بیان ہو گا اور اسی باب میں شاید وہ تحریریں بھی درج ہوا جو خفیہ طور پر خواہش اختیار اور حصول اقتدار کیلئے لکھی گئی ہوں " تب میں نے یقین کر لیا کہ احمد یہ بلڈنگس سے جو روایت مشہور ہوئی ہے اس کا منبع وہی لوگ ہیں۔ والسلام خاکسار فضل دین۔ مختار عدالت بٹالہ ۲۵ جنوری ۱۹۱۵ء