انوارالعلوم (جلد 2) — Page 294
انوار العلوم جلد ۲ ۲۹۴ القول الفصل اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے یعنی رسول اللہ ا نے خبردی تھی کہ آخری زمانہ میں میری امت میں سے ہی مسیح موعود آئے گا اور آنحضرت ا نے یہ بھی خبر دی تھی کہ میں معراج کی رات میں مسیح ابن مریم کو اور ان نبیوں کو دیکھ آیا ہوں کہ جو اس دنیا سے گزر گئے ہیں اور بچی شہید کے پاس یا دوسرے آسمان میں انکو دیکھا ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں خبر دی کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے۔ اور خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف و خسوف رمضان میں ہوا اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمد اخدا تعالی کے نشانوں کو رد کرتا ہے تو وہ مؤمن کیونکر ہو سکتا ہے اور اگر وہ مؤمن ہے تو میں بوجہ افتراء کرنے کے کافر ٹھرا کیونکہ میں ان کی نظر میں مفتری ہوں" (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۱۶۸) پس جب مسئلہ نبوت ثابت ہو چکا تو یہ مسئلہ کفر بھی خود بخود ثابت ہو چکا۔ طریق تبلیغ کے متعلق مجھے اپنی طرف سے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں جو کچھ حضرت مسیح موعود نے خود فتوی دیا ہے میں اس کو پیش کرتا ہوں آپ نے یورپ میں تبلیغ کے متعلق جو راہ بتائی ہے وہ یہ ہے۔ ۱۳ فروری ۱۹۰۷ء مولوی محمد علی صاحب کو بلا کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یورپ و امریکہ کے لوگوں پر تبلیغ کا حق ادا کرنے کے واسطے ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی جاوے اور یہ آپ کا کام ہے۔ آج کل ان ملکوں میں جو اسلام نہیں پھیلتا اور اگر کوئی مسلمان ہوتا بھی ہے تو " وہ بہت کمزوری کی حالت میں رہتا ہے اس کا سبب یہی ہے کہ وہ لوگ اسلام کی اصل حقیقت سے واقف نہیں اور نہ ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کا حق ہے کہ ان کو حقیقی اسلام دکھلایا جاوے جو خدا تعالیٰ نے ہم پر ظاہر کیا ہے وہ امتیازی باتیں جو کہ خدا تعالٰی نے اس سلسلہ رکھی ہیں وہ ان پر ظاہر کرنی چاہئیں۔ اور خدا خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات کا سلسلہ ان کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔ اور ان سب باتوں کو جمع کیا جاوے جن کے ساتھ اسلام کی عزت اس زمانہ میں وابستہ ہے۔ ان تمام دلائل کو ایک جگہ جمع کیا جاوے جو اسلام کی صداقت کے واسطے خدا تعالیٰ نے ہم کو سمجھائے ہیں۔ اس طرح ایک جامع کتاب تیار ہو جاوے تو امید ہے کہ اس سے ان لوگوں کو بہت فائدہ حاصل ہو۔" (بدر جلد ۶ نمبر ۹ صفحه ۴ - ۲۸ فروری ۱۹۰۷ء) میں پھر اسی طرح ایک احمدی کے لئے بڑا کام آپ یہ بیان فرماتے ہیں: خان صاحب کے اس استفسار پر کہ ہم کو یہاں سے جاکر کیا بڑا کام کرنا چاہئے؟ فرمایا ہماری دعوت کو لوگوں کو سنایا جاوے ہماری تعلیم سے ان کو واقف کیا جاوے تقوی توحید اور سچا اسلام ان کو سکھایا جاوے۔" (الحکم جلدے نمبرہ صفحہ ۱۳ بابت ۷۔ فروری ۱۹۰۳ء)