انوارالعلوم (جلد 2) — Page 286
انوار العلوم جلد ۲ ۲۸۶ القول الفصل امور کے خلاف کچھ لکھا ہو تو وہ خود آپ کے بیان کے مطابق اسی وجہ سے تھا کہ لوگوں میں ہی عقیدہ رائج تھا۔ اور اس اور آپ نے اسے اس وقت تک ترک کرنا پسند نہ فرمایا۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو بار بار وحی کے ذریعہ سے اس کی غلطی سے آگاہ نہ فرمایا ۔ ۳۔ ہم حضرت مسیح موعود کو نبی کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں ؟ کیا محدث اور مجدد ؟ ہاں ہم بے شک یہ بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود محدث اور مجدد بھی تھے ۔ لیکن محدث اور مجدد تو انحضرت اللہ بھی تھے۔ لیکن جب کوئی آنحضرت ا کا دعوئی پوچھے تو ہم کبھی نہیں کہہ سکتے کہ بس آپ کار پ کا دعوی تو صرف مجدد اور محدث ہونے کا تھا۔ نہیں ایسے موقع پر ہم کہیں گے کہ کے آپ کا دعوی نبی ہونے ہونے کا تھا۔ بلکہ خانم ہونے کا تھا۔ اسی طرح اگر حضرت مسیح موع خاتم النبتين دعاوی اور آپ کے درجہ کے متعلق سوال ہو تو ہم مجبور ہونگے کہ بتائیں کہ آپ کا آخری درجہ نبی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آنحضرت ا کا ظلی نبی ہونا تھا۔ چنانچہ جو لوگ آپ کا آخری درجہ مجددیت اور محدثیت کو قرار دیتے ہیں۔ ان کی غلطی خود حضرت مسیح موعود کے ان الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگر خداتعالی سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے " ۔ ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۰۹) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت صاحب کو جو درجہ ملاوہ محد ثیت کا درجہ نہ تھا بلکہ اس سے بڑھ کر تھا اور بڑے درجہ میں چھوٹے درجے آپ آجاتے ہیں۔ غرض کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے ۔ اور جہاں آپ نے نبوت سے انکار کیا ہے۔ انہی معنوں سے انکار کیا ہے جو لوگوں میں غلط طور پر رائج ہیں۔ اور وہ یہ کہ نبی صرف وہ ہو سکتا ہے جو شریعت لائے ۔ یا یہ کہ پہلے کسی نبی کی اتباع سے اسے نبوت نہ ملے۔ ملے۔ چنانچہ آپ اس عقیدہ کو باطل قرار دے کر نبی کے حقیقی معنے براہین میں یوں درج فرماتے ہیں۔ یہ تمام بد قسمتی دھوکا سے پیدا ہوئی ہے کہ ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو۔ اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں۔ اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو ۔ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۶)