انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 285

انوار العلوم جلد ۲ ۲۸۵ القول الفصل ریویو آف ریلیجز کے مضمون کا اختلاف بھی اسی وجہ سے ہوا ہے کہ بعد میں مجھے وحی الہی نے اپنا عقیدہ بدلنے پر مجبور کر دیا ۔ اگر حضرت مسیح موعود کا منشاء اوائل سے دعوئی مسیحیت سے پہلے کا زمانہ تھا اور تریاق القلوب کا زمانہ نہ تھا تو بجائے تریاق القلوب اور ریویو میں اختلاف کو تسلیم کرنے کے آپ یہ جواب دیتے کہ دعوی مسیحیت سے پہلے کے عقیدہ کا تو بیشک بعد کے عقیدہ سے اختلاف ہے لیکن یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ تریاق القلوب اور ریویو کے مضامین میں اختلاف ہے۔ یہ بالکل باطل ہے۔ اور دونوں کا مضمون ایک ہی ہے۔ اور ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن آپ معترض کے اعتراض کو قبول کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں کہ تریاق القلوب کی تحریر تک میرا اور عقیدہ تھا بعد میں متواتر وحی نے اس عقیدہ کو بدل دیا۔ پس اس صراحت کے ہوتے ہوئے اوائل کے معنی دعوئی مسیحیت سے پہلے کا زمانہ کرنا ایک ایسی دلیری ہے جس کا مرتکب اگر غلطی سے ایسا نہیں کرتا تو دنیا کو سخت دھوکا دینے والا ہے۔ س غرض کہ مذکورہ بالا حوالہ سے ثابت ہے کہ تریاق القلوب کی اشاعت تک (جو کہ اگست ۹۹ء شروع ہوئی اور ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ختم ہوئی) آپ کا عقیدہ یہی تھا کہ آر آپ کا عقیدہ میں تھا کہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے۔ اور یہ کہ آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے! اور ناقص نبوت ہے لیکن بعد میں جیسا کہ نقل کردہ عبارت کے فقرہ دو اور تین سے ثابت ہے آپ کو خدا تعالی کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ ہر ایک شان میں مسیح سے افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں بلکہ نبی ہیں ہاں ایسے نبی جن کو آنحضرت ا کے فیض سے نبوت ملی۔ پس ۱۹۰۲ء سے پہلے کی کسی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں ہو سکتا کیونکہ حضرت مسیح موعود نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تریاق القلوب میں جو آپ نے اپنا عقیدہ نبوت کے متعلق لکھا ہے بعد کی وحی نے اس سے آپ کو بدلا دیا ۔ اس جگہ اگر کوئی شخص کہہ دے کہ نبی تو وہی ہوتا ہے جو شریعت لائے یا کسی دوسرے نبی کی اتباع سے اسے نبوت نہ ملے اور چونکہ حضرت مسیح موعود میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتی تھیں اس لئے آپ کو نبی نہیں کہہ سکتے تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ بے شک عوام میں یہ عقیدہ پھیلا ہوا ہے لیکن جیسا کہ ہم شروع مضمون میں لکھ آئے ہیں۔ خدا اور قرآن کریم کی اصطلاح میں نبی کے لئے یہ شرائط لازمی نہیں ہیں۔ اور اگر ابتدائے دعوئی مسیحیت کے وقت حضرت مسیح موعود نے کبھی ان