انوارالعلوم (جلد 2) — Page 270
انوار العلوم جلد ۲ ٢٧٠ القول الفصل اس مصرعہ سے صاف پتہ لگتا ہے کہ آپ نے رسالت کا انکار کس لحاظ سے کیا ہے اس مفہوم کے لحاظ سے جو لوگوں میں غلط طور پر رسول کی نسبت پایا جاتا ہے جیسا کہ اس مصرعہ کی تشریح میں آپ خود فرماتے ہیں :- میرا یہ قول من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب۔ اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں" (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ہے روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۱۱) پس اس انکار سے فائدہ اٹھا کر یہ اعلان کرنا کہ حضرت مسیح موعود مجددوں میں سے ایک مجدد ہیں اور ماموروں میں سے ایک مامور ہیں اور ایسے ہی نبی ہیں جیسے کہ اور بزرگ نبی کہلا سکتے ہیں سخت ظلم اور تعدی ہے جس کا نشانہ اور بھی کوئی نہیں وہ خدا کا مسیح ہے جس کے ہم پر اس قدر احسانات اور انعامات ہیں کہ ہم ان کا شکریہ ادا کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ حضرت مسیح موعود تو صاف لکھتے ہیں کہ اس امت میں میرے سوا اور کوئی شخص نبی کہلانے کا مستحق نہیں جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:۔ " جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں" (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۴۰۶ اور آپ لکھتے ہیں کہ ایسی نبوت میں حضرت مسیح موعود کے شریک سید عبد القادر جیلانی جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہما اور دیگر بزرگ بھی ہیں ہم یہ مانتے ہیں کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے پچھلے مجددین اور مامورین کمالات نبوت محمدیہ سے حصہ پاسکتے تھے لیکن وہ نبی نہیں کہلا سکتے کیونکہ کمالات سے حصہ پانا ایک اور شئے ہے اور وہ درجہ حاصل کرنا ایک اور شئے ہے خواب بھی نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ایک شخص کو اگر کچی خوا ہیں یا الہام ہوتے ہوں تو اس کی نسبت ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسے کمالات نبوت سے حصہ ملا ہے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نبی ہو گیا۔ کیونکہ نبی وہی ہو گا جو ان کمالات میں سے اس قدر حصہ پائے جس پر اس کا نام نبی رکھا جا سکے سو ہم مسیح موعود کے ہم زبان ہو کر اقرار کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں ایسے بہت سے مجددین کا وعدہ تھا جو کمالات نبوت سے حصہ پائیں گے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں :- اور خلیفہ کے لفظ کو اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کریم کے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہو تا رہا “