انوارالعلوم (جلد 2) — Page 269
انوار العلوم جلد ۲ ۲۶۹ کہلاتے تھے جس لحاظ سے آپ اپنے آپ کو نبی کہتے ہیں :- القول الفصل یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے ہیں۔ پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جنکے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے"۔ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ حاشیه روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۹) اسی طرح اسلام کی اصطلاح میں نبی جس شخص کا نام ہوتا ہے اس کی نسبت فرماتے ہیں :- خدا نے قدیم سے اور جب سے کہ انسان کو پیدا کیا ہے یہ سنت جاری کی ہے کہ وہ پہلے اپنے فضل عظیم سے جس کو چاہتا ہے اس پر روح القدس ڈالتا ہے اور پھر روح القدس کی مدد سے اس کے اندر اپنی محبت پیدا کرتا ہے اور صدق و ثبات بخشتا ہے اور بہت سے نشانوں سے اس کی معرفت کو قومی کر دیتا ہے اور اس کی کمزوریوں کو دور کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ سچ مچ اس کی راہ میں جان دینے کو تیار ہوتا ہے ۔۔۔ اور ایسے شخص میں ایک طرف تو خدا تعالی کی ذاتی محبت ہوتی ہے اور دوسری طرف بنی نوع کی ہمدردی اور اصلاح کا بھی ایک عشق ہوتا ہے اسی وجہ سے ایک طرف تو خدا کے ساتھ اس کا ایسا ربط ہوتا ہے کہ اس کی طرف ہر وقت کھینچا چلا جاتا ہے اور دوسری طرف نوع انسان کے ساتھ بھی اس کو ایسا تعلق ہوتا ہے جو انکی مستعد طبائع کو اپنی طرف کھینچتا ہے جیسا کہ آفتاب زمین کے تمام طبقات کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور خود بھی ایک طرف کھینچا جا رہا ہے۔ یہی حالت اس شخص کی ہوتی ہے ایسے لوگوں کو اصطلاح اسلام میں نبی اور رسول اور محدث کہتے ہیں اور وہ خدا کے پاک مکالمات اور مخاطبات سے مشرف ہوتے ہیں اور خوارق ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور اکثر دعا ئیں ان کی قبول ہوتی ہیں اور اپنی دعاؤں میں خدا تعالی سے بکثرت جواب پاتے ہیں" ا لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۲۲ - ۲۴ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۵٬۲۲۴) اس بات پر مزید روشنی ڈالنے کے لئے اس امر کو بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ گو آپ رسول اور نبی کو ایک ہی خیال فرماتے تھے اور ان دونوں ناموں میں فرق نہ فرماتے تھے لیکن آج کل کے مسلمانوں میں سے ایک جماعت میں چونکہ یہ غلط خیال بھی پھیلا ہوا ہے کہ نبی اور رسول میں فرق ہوتا ہے اور رسول وہ ہے جو شریعت لائے اور نبی وہ جو ہر ایک پہلے نبی کی اطاعت سے آزاد ہو۔ اس لئے آپ نے کبھی کبھی لوگوں کے اس خیال کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ میں رسول نہیں ہوں لیکن وجہ وہی بتائی ہے کہ میں کوئی کتاب نہیں لایا ۔ چنانچہ فرماتے ہیں :- من نیستم رسول د نیاورده ام کتاب