انوارالعلوم (جلد 2) — Page 255
انوار العلوم جلد ۲ ۲۵۵ برکات خلافت خدا تعالی نے آگے کیا لطیف بات بیان فرمائی ۔ جنس کو جنس سے محبت ہوتی ہے فرمایا جب یہ لوگ جنت میں پہنچیں گے تو ملائکہ بھاگتے ہوئے ان کے پاس آئیں گے چونکہ یہ لوگ بھی ملکوتی صفات رکھنے والے ہوں گے اس لئے فرشتوں کو ان سے محبت ہونی ضروری تھی پس فرشتے ایسے لوگوں کی طرف دوڑ پڑیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ اس سبب سے کہ تم نے صبر کیا۔ یہاں خدا تعالیٰ نے صاف طور پر ظاہر فرمادیا کہ یہ ملائکہ کے درجہ کے انسان ہوں گے ملائکہ کا درجہ کیا ہی اچھا ہے۔ پھر انسان اس سے بھی ترقی کرتا ہے اور جب اس میں احساس زیادہ پیدا ہوتا جاتا ہے تو چھٹا درجہ وہ اور بلند ہوتا جاتا ہے پھر یہی نہیں کہ وہ اپنے آپ کو بدیوں سے بچاتا ہے بلکہ وہ یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میں تو کچھ چیزی نہیں ہوں۔ پس وہ اللہ کے ہاتھ میں اپنے آپ کو دے دیتا ہے ایسی حالت کے متعلق صوفیاء نے کہا ہے کہ انسان میں صفات الہیہ آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے لئے قرآن شریف کرتا ہے - بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقره: ۱۳) حضرت ابراہیم علیہ السلام جو کہ خدا تعالیٰ کے نبی تھے ان کو یہ درجہ حاصل ہو گیا تھا چنانچہ ان کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِذْ قَالَ لَهُ رَبَّهُ اسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرہ : ۱۳۲) جب اللہ تعالی نے کہا اسلم تو حضرت ابراہیم نے کہا اسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ پس ایک تو انسان کا وہ درجہ تھا کہ ملائکہ میں تھا۔ اس درجہ میں وہ یہ سمجھتا تھا کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں مجھے حکم دو میں کروں گا۔ مگر یہ ایک ایسی حالت ہے کہ انسان کہتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں جس طرح آپ کی مرضی ہو اسی طرح مجھے چلائیے ۔ اب جبکہ اس کو خدا چلائے گا تو جو کام اس سے ہوں گے وہ خدا تعالیٰ کے ہوں گے کیونکہ جس کے ہاتھ میں قلم ہو گی اسی کے نام سے چلے گی۔ لکھا ہے کہ ایک سپاہی اپنی تلوار کو اس زور سے مارتا تھا کہ گھوڑے کے چاروں پاؤں یک لخت کاٹ دیتا تھا۔ بادشاہ کے لڑکے نے جو اس کا یہ کام دیکھا تو اس سے کہا کہ یہ تلوار مجھے دے دیجئے۔ اس نے کچھ عذر کیا بادشاہ نے اس سپاہی کو کہہ کر وہ تلوار اس شہزادہ کو دلوادی۔ جب اس شہزادہ نے وہ تلوار چلائی تو کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ اس پر اس سپاہی نے کہا کہ میں اس وجہ سے یہ تلوار نہیں دیتا تھا کہ اس تلوار میں کوئی خاص جو ہر تھا بلکہ یہ تو اس لئے گھوڑے کے چاروں پاؤں اڑا دیتی تھی کہ یہ میرے ہاتھ میں تھی۔ مجھے اب کوئی اور تلوار دے دی جائے تو اس سے بھی میں کاٹ دوں گا کیونکہ تلوار کی خصوصیت نہیں بلکہ میری ہے۔ یہی حال بندہ کا ہوتا ہے جب وہ اپنے