انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 254

انوار العلوم جلد ۲ ۲۵۴ برکات خلافت مَا يُؤْمَرُونَ کے ماتحت کام کرتے ہیں اسی طرح یہ انسان بھی خدا تعالی کے سب حکموں کو پورا کرتا ہے اور اس پر کبھی غفلت کی نیند نہیں آسکتی۔ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ أَفَمَنْ يَعْلَمُ أَنَّهَا انْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَلَا يَنْقُضُونَ الْمِيثَاقَ وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَانْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أولَئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِه جَنْتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَالْمَلَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ سَلَّمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرَ ثُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الداره (الرعد: ۲۰ تا ۲۵) اے رسول وہ چیز جو تیرے اوپر اتری حق ہے جو اس بات کو جانتا ہے بھلا وہ کس طرح ایک اس اندھے کی طرح ہو سکتا ہے جو اس کو حق نہیں سمجھتا۔ ہماری باتوں سے اصل فائدہ تو وہی اٹھاتے ہیں جو اولوالالباب ہوتے ہیں یعنی جو عقل و دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے عہدوں کو پورا کرتے ہیں ان کو توڑتے نہیں اور ان کو خداتعالیٰ نے جو حکم دیتے ہوتے ہیں بجالاتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور یوم حساب کی برائی سے انہیں ڈر ہوتا ہے اور وہ اپنے رب کی رضامندی چاہنے کے لئے صبر کرتے ہیں اور نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو کہ انہیں دیا گیا ہے پوشیدہ اور ظاہر طور پر ۔ اور بدیوں کو نیکیوں کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور نیکیاں پھیلاتے ہیں۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن کو جنت میں عمدہ بدلے دیئے جائیں گے ۔ اور وہ جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ پھر ان کا اتنا بڑا درجہ ہے کہ صرف انہیں کو درجے نہیں دیئے جائیں گے بلکہ ان کے رشتہ دار جنہوں نے تھوڑی نیکیاں کی ہوں گی ان کی وجہ سے ان کے درجے بھی بلند کئے جائیں گے۔ اور جہاں یہ ہوں گے وہاں ہی ان کے رشتہ دار بھی پہنچائے جائیں گے ۔ یہ کیوں اس لئے کہ انہوں نے لوگوں کو نیک بنانے کی کوشش کی اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو راہ ہدایت پر لانے میں کوشاں رہے۔ اس کے بدلہ میں خدا ان سے صرف یہی سلوک نہیں کرے گا کہ ان کے درجے بلند کر دے گا بلکہ ان کے رشتہ داروں کا بھی ان کی وجہ سے بلند مرتبہ کردے گا۔ آنحضرت اللہ نے فرمایا ہے کہ جنت میں جس درجہ میں میں ہوں گا اس میں علی اور فاطمہ ہوں گے ۔ تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح یہ لوگ دنیا میں ہماری مخلوق کی خبر گیری کرتے رہتے ہیں ہم اس کے بدلہ میں ان کے رشتہ داروں کو فائدہ پہنچادیں گے۔