انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 231

انوار العلوم جلد ؟ بسم الله الرحمن الرحیم ۲۳۱ برکات خلافت محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم حضرت فضل عمر کی دوسری تقریر (جو ۲۸ دسمبر ۱۹۱۴ء کو سالانہ جلسہ پر ہوئی) ورسوله أن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَهُ اَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ، لَهُ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ، مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ، وَسِعَ شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَؤُدُّهُ حِفْظُهُمَا ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقره: ۲۵۷) میں نے کل آپ لوگوں کے سامنے بیان کیا تھا کہ میں ایک ایسی بات بیان کرنا چاہتا ہوں جو ایسی ضروری ہے کہ اس کی ضرورت اس کی عظمت اور اس کی قدر مجھ سے تو بیان نہیں ہو سکتی۔ ہر ایک انسان کی زندگی کا مقصد اور صرف ایک ہی مقصد - کسی فرقہ یا قوم یا جماعت کی ترقی کا ذریعہ اور صرف واحد ذریعہ اور انسان کے انسان کہلانے کے ایک ہی ثبوت پر اگر اللہ تعالی نے مجھے توفیق دی تو میں اس وقت کچھ بیان کروں گا۔ کل تو اللہ تعالی کا بڑا فضل رہا کہ میں نے ساڑھے تین گھنٹے تقریر کی لیکن کوئی ایسی تکلیف نہ ہوئی مگر کل کے بولنے سے آج تکلیف ہے اس لئے میں پوری طرح کھول کر اس بات کو نہ بیان کر سکوں گا۔ اگر اللہ تعالی نے توفیق دی تو پھر کبھی اس پر بولوں گا۔ شاید کسی کے دل میں شبہ پیدا ہو کہ ایسی کونسی ضروری بات ہے جس پر اتنا زور دیا گیا ہے کہ اس کے بغیر کوئی جماعت ترقی ہی نہیں کر سکتی۔ اس کے سوا کوئی انسان انسان ہی نہیں بن سکتا۔ اور اس کے بغیر انسانی زندگی کا مقصد ہی پورا نہیں ہو سکتا۔ پھر اگر کوئی ایسی ہی بات ہے تو یہ کیونکر ممکن