انوارالعلوم (جلد 2) — Page 225
انوار العلوم جلد ۲ ۲۲۵ برکات خلافت ہے۔ لیکن افسوس کہ لوگ گورنمنٹ کے وعدہ کو تو سچا سمجھتے ہیں اور بڑی خوشی سے ٹیکس ادا کر دیتے ہیں لیکن خدا تعالی کے وعدہ کو سچا نہیں سمجھتے اسی لئے زکوۃ نہیں دیتے ۔ زکوۃ کے ذریعہ سے انسان بہت سے دکھوں اور تکلیفوں سے بچ جاتا ہے کیونکہ خدا کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔ زکوۃ کے فوائد میں سے ایک اور عظیم الشان فائدہ ہے جس سے ایک تصوف کا لطیفہ صوفیانہ مذاق کے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور وہ یہ کہ انسان جب مال وہ مال کماتا ہے تو خواہ وہ کتنی ہی کوشش کرے کہ حرام مال اس کے مال میں شامل نہ ہو لیکن یہ بات بالکل ممکن ہے کہ غلطی سے نا جائز مال اس کے مال میں مل جائے۔ مثلاً ایک سوداگر کپڑا بیچتا ہے اسے نہیں معلوم ہوتا کہ اس میں سوراخ ہیں اور کپڑا نا کارہ ہو چکا ہے وہ خریدار کو دے کر قیمت لے لیتا ہے اور گو اس سے غلطی سے ہی یہ کام ہوا ہے لیکن جو روپیہ اس کے پاس آیا ہے وہ اس کا حق نہیں اور وہ اس کا مالک نہیں گو بے علمی کی وجہ سے ہی اس پر اس نے قبضہ کیا ہے اس مال کو کھا کر اس انسان کے گوشت پوست میں کوئی برکت پیدا نہ ہو گی اور نہ اس کے دوسرے مال میں اس کے ذریعہ کوئی برکت ہو گی لیکن جب یہ شخص سال کے بعد اللہ تعالی کے حکم کے ماتحت اپنے مال میں سے ایک حصہ زکوٰۃ کا نکالتا رہے گا تو اس کا مال پاک ہو تا رہے گا۔ اور اگر کوئی حصہ مال کا غیر طیب تھا تو وہ اس کی جان پر یا اس کے نفس پر خرچ نہ ہو گا بلکہ زکوۃ کے ذریعہ سے حقیقی مالک یعنی اللہ تعالی کے پاس واپس چلا جائے گا اور اس کا مال طیب رہے گا۔ اور حلال مال کے کھانے اور استعمال کرنے سے اس کی ہر چیز میں برکت پیدا ہو گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح ایک اور بات جس کی طرف ہماری جماعت کی توجہ کی ضرورت ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے سوانح کی حفاظت ہے۔ ہمارے زمانہ میں خدا تعالی کے فضل سے سب سامان موجود ہے۔ قلم دوات سیاہی کاغذ ، مطبع وغیرہ لیکن اگر ہم اس کام کو نہ کریں تو کیسے سخت افسوس کی بات ہے اور بعد میں آنے والے لوگ ہمیں کس نظر سے دیکھیں گے۔ نئے نئے آنے والے لوگ کیا جانتے ہیں کہ مسیح موعود کیا تھے جب تک ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہ ہو جس سے وہ ان کا حال تمام معلوم کر سکیں۔ چند دن ہوئے یہاں دو عیسائی آئے تھے مجھ سے ان کی گفتگو ہوئی وہ ایک آدمی کو کہنے لگے کیا مرزا صاحب بھی ایسے ہی تھے۔ اس نے کیا ہی خوب جواب دیا کہ مجھ سے کیا کو کہنے لگے کیا مرزا صاحب