انوارالعلوم (جلد 2) — Page 224
انوار العلوم جلد ۲ زکوۃ کے فوائد ۲۲۴ برکات خلافت زکوۃ کا حکم ایک بے نظیر حکم ہے اور اسلام کی بے انتہاء خوبیوں میں سے ایک روشن خوبی ہے اور بہت سی جماعتوں پر اس کے ذریعہ اسلام کی عظمت کی حجت قائم کی جا سکتی ہے۔ مثلاً یورپ میں آج کل دو گروہ ہیں۔ ایک کہتا ہے کہ جتنا کوئی کماتا ہے اسے کمانے دو اور اس کو اپنی محنت کا ثمرہ اٹھانے دو۔ دو سرا گر وہ کہتا ہے کہ سارے ملک کے لوگ کام کرتے ہیں تب ہی دولت آتی ہے اس لئے جو لوگ بہت مالدار ہیں ان سے چھین کر مفلس اور نادار لوگوں کو دینا چاہئے تاکہ وہ بھوکے نہ مریں اور ملک کے کاروبار میں خلل واقع نہ ہو ۔ خدا تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کی باتوں کو رد کر کے ٹھیک اور درست بات بیان فرمادی ہے اور اسلام نے افراط اور تفریط دونوں کو چھوڑ کر عمدہ بات لے لی ہے۔ میرا یقین ہے کہ اگر صرف زکوٰۃ کا مسئلہ لے کر یورپ کے سامنے پیش کیا جائے تو کسی کی طاقت نہیں کہ اس کی صداقت اور عمدگی سے انکار کر سکے ۔ بعض لوگ زکوۃ کو ایک چٹی خیال کرتے ہیں لیکن زکوۃ چٹی نہیں ہے اس کے سمجھنے کے لئے میں تمہیں ایک موٹی بات بتاتا ہوں۔ گورنمنٹ رعایا سے ٹیکس لیتی ہے پھر اس ٹیکس سے ملک اور رعایا کی حفاظت کے لئے فوج اور پولیس تیار کرتی ہے۔ رعایا کے آرام کے لئے سڑکیں اور شفا خانے بناتی ہے اور طرح طرح کے آرام بہم پہنچاتی ہے چونکہ گورنمنٹ رعایا کے آرام کے لئے ہی ٹیکس لیتی ہے اس لئے اس کے اس ٹیکس لینے کو کوئی چٹی خیال نہیں کرتا اسی طرح زکوۃ بھی چٹی نہیں بلکہ خود انسانوں کے بھلے کیلئے یہ حکم دیا گیا ہے جس طرح گورنمنٹ اپنی رعایا کی بہتری کے لئے ٹیکس وصول کرتی ہے اسی طرح اللہ تعالی نے بھی زکوۃ مقرر فرمائی ہے اور اس کے بدلہ میں یہ وعدہ کیا ہے کہ تمہارے اموال میں برکت ہوگی اور وہ ہر ایک قسم کی ہلاکتوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔ جیسا کہ فرمایا - خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُ هُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلَّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلُونَكَ سَكَنُ لَهُمْ (التوبہ : ۱۰۳) ان لوگوں کے اموال میں سے صدقات کا مال لو اور اس ذریعہ سے ان کو ظاہری اور باطنی نقصوں سے پاک کر دو اور ان کے لئے دعائیں کرو کیونکہ تمہاری دعا ئیں ان کے لئے آرام اور راحت کا موجب ہیں۔ غرض کہ زکوۃ خدا تعالی کی طرف سے ایک ایسا ٹیکس ہے جس کے بدلہ میں انسان پر رحمت اور اس کی ظاہری و باطنی پاکیزگی کا وعدہ ہے۔ جب سے مسلمانوں نے زکوۃ دینی چھوڑ دی ہے اس وقت سے ان کا مال کم ہی کم ہو رہا ہے ۔ کہاں تو ایک وقت تھا کہ یہ دنیا کے بادشاہ تھے لیکن آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ زکوۃ دینے والے کو اللہ تعالی اسی طرح کامیابی اور پاکیزگی کا وعدہ دیتا ہے جس طرح گورنمنٹ ٹیکس لے کر حفاظت کا وعدہ کرتی